کورونا وائرس خدشے کے پیش نظر خیبر پختونخوا نے قیدیوں کی سزا میں کمی کر دی
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان نے صوبہ بھر کی جیلوں میں بند قیدیوں کی سزا میں 2 ماہ کم کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
صوبائی محکمہ جیل خانہ جات کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قیدیوں کو ریلیف دینے کا یہ فیصلہ ملک میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق سزاؤں میں کمی کے اس اقدام سے بیشتر قیدیوں کو رہائی مل جائے گی۔ مشیر برائے جیل خانہ جات تاج محمد خان ترند نے جیل انتظامیہ کو ایسے قیدیوں کی فوری کی ہدایت کی ہے جن کی سزائیں اس معافی کے ساتھ مکمل ہو جائیں گی۔
اعلامیے مطابق اس فیصلے کا اطلاق دہشتگردی کے واقعات میں سزایافتہ قیدیوں پر نہیں ہو گا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے پیر کے روز ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ صوبے بھر میں کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد 15 ہے۔ یہ ان 19 افراد میں شامل ہیں جو بلوچستان کی سرحدی گزرگاہ تفتان کے راستے حال ہی میں ایران سے واپس آئے تھے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے بارے میں بتایا کہ وہ امکانی طور پر کرونا وائرس میں مبتلا تھا۔
دیگر احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ محکمہ مذہبی امور اور اوقاف نے بھی مساجد میں نماز پنج گانہ کے ادائیگی کے سلسلے میں صوبائی حکومت کو تجاویز پیش کی ہیں، جب کہ صوبے بھر کے سرکاری اداروں اور دفاتر میں غیر ضروری ملازمین کو رخصت پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
کیا کرونا وائرس کی وجہ سے پروازیں کم ہوئیں؟
کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ شدید ضرورت کے سوا سفر نہ کریں۔ فضائی اداروں کو شدید نقصانات کے اندازے لگائے جارہے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر پروازوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔
فلائٹ راڈار 24 ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو پوری دنیا میں پروازوں کا حساب رکھتی ہے۔ کون سی طیارہ کون سے ائیرپورٹ سے روانہ ہوا، کہاں لینڈ کرے گا، اس وقت فضا میں کہاں موجود ہے، کس کمپنی کا بنا ہوا ہے، کون سی ائیرلائنز کے زیر استعمال ہے، پرواز نمبر کیا ہے، تمام تفصیلات اس ویب سائٹ پر رئیل ٹائم میں موجود ہوتی ہیں۔
اس ویب سائٹ کے مطابق روزانہ پوری دنیا میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پروازیں آپریٹ کی جاتی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں کسی ایک دن سب سے زیادہ پروازیں 21 فروری کو آپریٹ کی گئیں جن کی تعداد ایک لاکھ 96 ہزار تھی۔ 23 فروری کو ان کی تعداد گھٹ کر ایک لاکھ 66 ہزار رہ گئی۔ یہ کمی بیشی ہفتے کے مختلف دنوں میں چھٹی اور کام کے دنوں کی وجہ سے جاری رہتی ہے۔
10 مارچ کو ایک لاکھ 71 ہزار، 11 مارچ کو ایک لاکھ 81 ہزار، 12 مارچ کو ایک لاکھ 79 ہزار، 13 مارچ کو ایک لاکھ 71 ہزار اور 14 مارچ کو ایک لاکھ 55 ہزار پروازیں ہوا میں تھیں۔
امریکہ سمیت مختلف ملکوں نے بین الاقوامی پروازوں کو روکنے یا ان میں کمی کا اعلان کیا ہے لیکن فی الحال ڈیٹا میں نمایاں تبدیلی نظر نہیں آرہی۔
2019 میں پوری دنیا میں ائیرلائنز کے 4 ارب 54 کروڑ ٹکٹ فروخت ہوئے ہیں۔ 2004 میں یہ تعداد 2 ارب سے کم تھی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فضائی سفر پر کرونا وائرس کے اثرات کا درست اندازہ آئندہ چھ ماہ میں لگایا جاسکے گا اور خدشہ ہے کہ اس عالمی بحران کی وجہ سے کئی ائیرلائنز دیوالیہ ہوجائیں گی۔
چین کے اندر کم، باہر زیادہ مریض، زیادہ ہلاکتیں
کرونا وائرس کے چین سے باہر مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد چین کے اندر کیسز اور ہلاکتوں سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ چین میں مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے کم رہ گئی ہے۔
ویب سائٹ ورڈومیٹرز کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب تک پوری دنیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 174604 تھی جن میں سے 6685 ہلاک ہوچکے ہیں۔ مزید چھ ہزار کی حالت تشویش ناک ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ 77867 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔
ویب سائٹ کے اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی روزانہ پانچ ہزار نئے مریض سامنے آرہے ہیں۔ یورپ میں نئے کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اٹلی کے بعد سپین میں لوگ وائرس سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ایران میں بھی صورتحال قابو میں نہیں آرہی۔
اب تک جن ملکوں میں پانچ ہزار سے زیادہ کیسز ہوچکے ہیں ان میں چین، اٹلی، ایران، اسپین، جنوبی کوریا، جرمنی اور فرانس شامل ہیں۔ امریکہ میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد 3808 اور پاکستان میں 136 ہے۔ چین کے علاوہ اٹلی، ایران، سپین اور فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں 70 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
- By سہیل انجم
نئی دہلی: مظاہرین کا شاہین باغ میں دھرنا ختم کرنے سے انکار
نئی دہلی کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سیاسی، سماجی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ البتہ شہریت بل کے خلاف شہریت بل کے خلاف شاہین باغ میں سراپا احتجاج مظاہرین نے یہ حکم نامہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہے۔
نئی دہلی کی حکومت نے دارالحکومت میں 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔ البتہ شادی کی تقریبات کو استثنٰی دیا گیا ہے۔
شاہین باغ کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس حکم کی پابندی نہیں کریں گے اور ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔
منتظمین میں سے ایک سید تاثیر احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ کے دھرنے کو سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔ ہمارا معاملہ عدالت میں ہے۔ 23 مارچ کو تاریخ ہے۔ اگر اس دن سپریم کورٹ نے دھرنا ختم کرنے کا کہا تو وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں گے۔