اسلام آباد: کرونا وائرس سے ٹریول ایجنٹس کا کاروبار شدید متاثر
کرونا وائرس کے پیشِ نظر کئی ممالک نے سفری پابندیاں عائد کی ہیں اور غیر ملکی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ پروازوں کی بندش سے جہاں ایئر انڈسٹری شدید متاثر ہو رہی ہے وہیں ٹریول ایجنٹس کا کاروبار بھی تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ مزید دیکھیے اسلام آباد سے واجد شاہ کی رپورٹ میں۔
پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید پانچ مریض سامنے آ گئے
پاکستان کے صوبۂ پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید پانچ مریض سامنے آ گئے ہیں۔ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں قائم قرنطینہ میں ایران سے آنے والے 42 زائرین میں سے پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ مرکز میں 736 افراد کو رکھا گیا ہے۔ وزیرِ صحت نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔
نئے مریض سامنے آنے کے بعد پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جب کہ پاکستان بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 189 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب لاہور کے میو اسپتال میں زیرِ علاج کرونا وائرس کا ایک مشتبہ مریض ہلاک ہو گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض ایران سے آیا تھا جس میں کرونا وائرس کی علامات پائی گئی تھیں۔
مریض کے ٹیسٹ کے نمونے لیبارٹری بھجوائے گئے تھے جن کا نتیجہ منگل کو آنا تھا۔ تاہم 50 سالہ مریض اس سے پہلے ہی دم توڑ گیا ہے۔
ایران نے عارضی طور پر 85 ہزار قیدی رہا کر دیے
ایران کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف جیلوں میں قید 85 ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ رہائی پانے والوں میں مختلف سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔
ایران میں جوڈیشری کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے بتایا کہ عارضی بنیادوں پر رہائی پانے والوں میں سیکیورٹی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے بقول کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جیلوں میں خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ براے انسانی حقوق نے 10 مارچ کو حکومت سے اپیل کی تھی کہ سیاسی بنیادوں پر جیلوں میں موجود قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
کیا اسپتال کرونا وائرس کے لیے تیار ہیں؟
چین کے شہر ووہان میں ایک نئے مہلک وائرس کی خبر ملنے پر امریکہ میں متعددی امراض کے ماہرین چونکے تھے۔ سردست اس کا علاج موجود نہیں اس لیے محض دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
کلیولینڈ کلینک کے ڈاکٹر رابرٹ وائلی کا کہنا ہے کہ ہم دیکھ بھال کے کارکنوں کی مہارتوں اور ان کی معلومات کو اپ ڈیٹ کررہے ہیں۔ ان میں حفاظتی آلات کا استعمال شامل ہے تاکہ وہ خود کو اس وائرس سے محفوظ رکھ سکیں۔
بہت سے اسپتالوں میں متعدی امراض کے مریضوں کے لیے خصوصی شعبے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا کوئی اسپتال واقعی کرونا وائرس کے لیے تیار ہوسکتا ہے؟ اس بارے میں مڈاسٹار واشنگٹن اسپتال کے ڈاکٹر گلین وورٹمن کہتے ہیں کہ اس کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ اس کا انحصار طلب پر ہے۔ اگر چند مریض ہوں تو اسپتال بہتر طور پر نمٹ سکتا ہے۔ لیکن اگر ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگی تو دنیا کا کوئی اسپتال اس کے لیے تیار نہیں ہے۔
بہت سے اسپتالوں میں ڈاکٹر فون یا اسکائپ پر رابطہ کرنے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ یونیورسٹی آف میسوری کے ہیلتھ کئیر کے ڈاکٹر اسٹیفن وٹ کہتے ہیں کہ یہ عام انفلوئنزا کے موسم اور کرونا وائرس جیسی وباؤں، دونوں کے لیے بہترین حل ہے۔ اس طرح مریضوں کا جلد معائنہ کیا جاسکتا ہے اور ان کے سوالوں کے جلد جواب دیے جاسکتے ہیں۔ ہم ان مریضوں کو اسپتال میں رکھ سکتے ہیں جن کا داخل ہونا ضروری ہو اور ان مریضوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں جنہیں اسپتال آنے کی ضرورت نہ ہو۔