بھارت میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 3 ہو گئی
بھارت میں کرونا وائرس کا شکار ایک اور مریض دم توڑ گیا جس کے بعد ملک بھر میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد تین ہو گئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منگل کو ممبئی میں کرونا وائرس سے متاثرہ 64 سالہ شخص دم توڑ گیا جو پانچ مارچ کو دبئی سے ممبئی پہنچا تھا۔
بھارت میں اس اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 126 ہے جن میں سے 22 غیر ملکی ہیں۔
بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں اب تک 39 افراد میں اس وبا کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
بھارت نے یورپی یونین، ملائیشیا، فلپائن اور افغانستان سمیت کرونا وائرس سے متاثرہ دیگر کئی ملکوں سے آنے والوں کا ملک میں داخلہ بند ہے۔
اسلام آباد: کرونا وائرس سے ٹریول ایجنٹس کا کاروبار شدید متاثر
کرونا وائرس کے پیشِ نظر کئی ممالک نے سفری پابندیاں عائد کی ہیں اور غیر ملکی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ پروازوں کی بندش سے جہاں ایئر انڈسٹری شدید متاثر ہو رہی ہے وہیں ٹریول ایجنٹس کا کاروبار بھی تقریباً ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ مزید دیکھیے اسلام آباد سے واجد شاہ کی رپورٹ میں۔
پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید پانچ مریض سامنے آ گئے
پاکستان کے صوبۂ پنجاب میں کرونا وائرس کے مزید پانچ مریض سامنے آ گئے ہیں۔ صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان میں قائم قرنطینہ میں ایران سے آنے والے 42 زائرین میں سے پانچ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ مرکز میں 736 افراد کو رکھا گیا ہے۔ وزیرِ صحت نے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔
نئے مریض سامنے آنے کے بعد پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے جب کہ پاکستان بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 189 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب لاہور کے میو اسپتال میں زیرِ علاج کرونا وائرس کا ایک مشتبہ مریض ہلاک ہو گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض ایران سے آیا تھا جس میں کرونا وائرس کی علامات پائی گئی تھیں۔
مریض کے ٹیسٹ کے نمونے لیبارٹری بھجوائے گئے تھے جن کا نتیجہ منگل کو آنا تھا۔ تاہم 50 سالہ مریض اس سے پہلے ہی دم توڑ گیا ہے۔
ایران نے عارضی طور پر 85 ہزار قیدی رہا کر دیے
ایران کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف جیلوں میں قید 85 ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ رہائی پانے والوں میں مختلف سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔
ایران میں جوڈیشری کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی نے بتایا کہ عارضی بنیادوں پر رہائی پانے والوں میں سیکیورٹی سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ترجمان کے بقول کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جیلوں میں خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ براے انسانی حقوق نے 10 مارچ کو حکومت سے اپیل کی تھی کہ سیاسی بنیادوں پر جیلوں میں موجود قیدیوں کو رہا کیا جائے۔