کرونا کے خلاف کوششوں میں پاکستان کسی سے پیچھے نہیں، فواد چوہدری
پاکستان کے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کسی ایک ملک یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا اور پوری انسانیت کے لئے ایک بحران بن چکا ہے اور سب کی نظریں طبی شعبے میں تحقیق کرنے والوں اور بائیو ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب ہیں۔
میری لینڈ میں مسلم فار ٹرمپ کے بانی ساجد تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جنہیں کرونا کے سبب شروع ہی سے چیلنجز کا سامنا تھا، کیونکہ چین اور ایران جیسے ممالک جہاں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے، پاکستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔
ان کے بقول، پاکستان نے شروع ہی سے جو احتیاطی اقدامات کیے اس لیے آج بھی وہاں وبا کا پھیلاؤ باقی ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرنطینہ کرونا سے بچاؤ کا حتمی حل نہیں ہے۔ انسانوں کو میل ملاپ سے زیادہ دیر نہیں روکا جا سکتا۔ اس لئے سب کی نظریں سائنسدانوں اور لیبارٹریوں کی طرف ہیں۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ باقی دنیا کی طرح پاکستان کی لیبارٹریز اور پاکستان کے طبی محققین بھی کرونا وائرس کی ادویات یا ویکسین کی تیاری پر تحقیق کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کے زیرانتظام مربوط کوششیں جاری ہیں۔
تھائی لینڈ سے لندن، پیرس سے نیویارک کی سڑکیں سنسان
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں جہاں مختلف ممالک کی جانب سے ملک گیر لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے وہیں بڑی بڑی انڈسٹریز کو شدید بحران کا سامنا ہے۔
تھائی لینڈ سے لے کر لندن اور پیرس سے لے کر نیویارک کی سڑکیں، بازار، ریستوران اور تاریخی جگہیں سنسان ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے 'سی این بی سی' کے مطابق، صرف امریکہ میں سیاحت کی صنعت کو اس برس کرونا وائرس سے پیدا ہونے والے بحران کی وجہ سے 24 ارب ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔ سی این بی سی کے مطابق فرانس کو، جس کی سیاحت کی صنعت اسی ارب یورو سے زیادہ ہے، 30 سے 40 فیصد نقصان کا سامنا ہے۔
تھائی لینڈ میں تو سڑکوں پر بندر راج کر رہے ہیں کیوں کہ سیاحوں کے ناپید ہونے کی وجہ سے بھوک سے ستائے ہوئے بندروں کو خوراک دینے والا کوئی نہیں ہے۔
سیاحت کے بعد جس انڈسٹری کو سب سے زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ ہوائی اور بحری سفر کی انڈسٹری ہے۔ سیاحت کے ساتھ ساتھ کاروبار زندگی کے معطل ہونے کی وجہ سے ہوائی جہازوں کی انڈسٹری کو شدید بحران کا سامنا ہے۔انٹرنیشنل ائیر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن کے مطابق، ایوی ایشن کی انڈسٹری کو اس وقت 113 ارب ڈالر کے نقصانات کا سامنا ہے۔
یہ انڈسٹری اس وقت تقریباً زمین بوس ہو چکی ہے، کیونکہ امریکہ سمیت مختلف ممالک نے کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے ہوائی رابطے بند کر دیے ہیں۔
شہر بند ہونے سے چھوٹے کاروباری لوگ اور دہاڑی والے پریشان
فہیم میاں نیویارک میں صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔ لیکن، اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لئے اوبر ٹیکسی چلاتے ہیں۔ فہیم میاں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے امریکہ کے اس سب سے بڑے شہر کو ویران کرکے رکھ دیا ہے۔
انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسکول دفاتر عملاً بند ہیں اور ہوٹلوں میں لوگوں کو مل بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت نہیں۔ سڑکیں ویران ہیں۔ نہ صرف سیاح غائب ہیں بلکہ مقامی شہری بھی گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے جس وجہ سے ٹیکسی ڈرائیوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
بقول فہیم میاں ''جو لوگ دہاڑی پیشہ ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو کیب چلاتے ہیں یا دیگر کام کرتے ہیں روز کنواں کھود کر پانی پینے والے لوگ ہیں، ان کی دہاڑی ختم ہوچکی ہے۔ جو کیب ڈرائیور ہے جس کی گاڑی کا خرچہ روز کا اسی سے سو ڈالر ہے وہ دو سو ڈھائی سو دہاڑی لگاتا ہے تو اس کو سو ڈیڑھ سو ڈالر بچ جاتے تھے۔ اب اس وقت وہ پورا دن بھی گاڑی لے کر سڑک پر گھومتا رہے تو مسافر سڑک پر ہے ہی نہیں یعنی وہ گاڑی کی لائبیلٹی جو اس کے اوپر ہے وہ بھی وہ پوری نہیں کر پا رہا''۔
کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کھربوں ڈالر مختص
دنیا کو کرونا وائرس کی صورت میں ایک عظیم بحران کا سامنا ہے اور ہر ملک اپنی ہمت کے مطابق اس سے نمٹنے کی کوشش کررہا ہے۔ جیسے ہر شخص کی قوت مدافعت مختلف ہے، اسی طرح ہر ریاست کی قوت میں بھی فرق ہے۔ اس کا اندازہ بحران سے نمٹنے کے لیے مختص کی جانے والی رقوم سے لگایا جاسکتا ہے۔
امریکہ نے ابتدائی طور پر ساڑھے 8 ارب ڈالر کی رقم رکھی تھی لیکن فوری طور پر اس کے ناکافی ہونے کا اندازہ ہوا اور ٹرمپ انتظامیہ نے مزید 50 ارب ڈالر کا اعلان کیا۔ ابھی اس رقم کا بل سینیٹ سے منظور نہیں ہوا کہ وائٹ ہاؤس نے مزید ایک ٹریلن یعنی 10 کھرب ڈالر کے پیکج کی تجویز پیش کردی۔
امریکہ کے بعد کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے سب سے زیادہ رقم جرمنی صرف کرے گا۔ ابھی بہت سے ملک سوچ بچار کررہے تھے کہ برلن نے 613 ارب ڈالر مختص کردی۔ منگل کو برطانیہ نے 330 ارب پاؤنڈ اور اسپین نے 200 ارب یورو کی رقم کا اعلان کردیا۔