سری لنکا میں بیرونِ ملک سے آنے والی پروازوں پر پابندی، اسٹاک مارکیٹ بند
کرونا وائرس کے پیشِ نظر سری لنکا نے بیرونِ ملک سے آنے والی تمام پروازوں پر دو ہفتوں کے لیے پابندی لگا دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سری لنکا میں بدھ کو 'کووڈ 19' کے 43 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔ احتیاطی اقدامات کے تحت سری لنکا نے بیرون ملک سے آنے والی تمام پروازوں پر دو ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
سری لنکا میں اشیا کی قیمتوں پر نظر رکھنے والے پرائس کنٹرول کے اداروں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے۔
سری لنکا نے اپنی اسٹاک مارکیٹ بھی ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چین میں کرونا وائرس کے امپورٹڈ کیسز میں اضافہ
چین میں گزشہ پانچ روز کے دوران کرونا وائرس کے ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو بیرون ملک سے چین پہنچے ہیں جب کہ ان مریضوں کی تعداد کم ہے جو مقامی طور پر 'کووڈ 19' میں مبتلا ہوئے ہیں۔
چین میں منگل کو کرونا وائرس کے 13 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 12 مریض بیرونِ ملک سے چین پہنچے تھے جب کہ صرف ایک مریض ایسا تھا جس میں کرونا وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا تھا۔
چین میں کرونا وائرس کے امپورٹڈ کیسز کی مجموعی تعداد 155 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب بدھ کو چین میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 80 ہزار 894 تک پہنچ گئی ہے۔ منگل کو چین میں مزید 11 ہلاکتوں کے بعد مجموعی تعداد 3237 ہو گئی ہے۔
کون کون سے فلمی ستارے کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں؟
دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری ہالی وڈ کے چار فنکار اب تک کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور بیشتر نے اپنی سرگرمیاں محدود کرتے ہوئے خود کو الگ تھلگ کر لیا ہے۔
برطانوی اداکار ادریس البا اور جیمز بانڈ کی فلم 'کوانٹم آف سولیس' کی ہیروئن اولگا کریلنکو بھی کرونا وائرس کے شکار ہوگئے ہیں۔
ادریس البا نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی ہے۔ ادیس البا کا کہنا تھا کہ انہوں نے چار مارچ کو ایک عوامی اجتماع میں شرکت کی تھی جس کے بعد اُنہیں اپنی صحت پر تشویش ہوئی جس پر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا گیا جو مثبت آیا ہے۔
ادریس البا کی اہلیہ برینا کا بھی کرونا وائرس ٹیسٹ کرایا گیا ہے تاہم ان کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔
کرونا وائرس: 'حکومت سہولتیں دے، لوگ دن دھاڑے لوٹنا شروع نہ کر دیں'
کرونا وائرس کے پیشِ نظر بلوچستان کے سرکاری دفاتر شہریوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔ دفاتر اور عدالتیں بند ہونے سے شہری پریشانی کا شکار ہیں۔ کچھ لوگ یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن سے کہیں اسٹریٹ کرائمز نہ بڑھ جائیں۔ دیکھیے کوئٹہ سے مرتضیٰ زہری کی یہ رپورٹ