پنجاب میں بھی ریستوران اور دکانیں 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بڑے شاپنگ مالز، ریستوران اور دکانیں 10 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کو پنجاب اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
پنجاب کے وزیر اعلٰی عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حمل محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔ حکومتِ پنجاب نے سیاحتی مقام مری میں بھی سیاحوں کی آمد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضروری سرکاری ملازمین کو ہی دفاتر میں بلایا جائے گا۔
کرونا وائرس: کراچی میں بازار اور شاپنگ مالز بند
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سندھ حکومت کی ہدایت پر بدھ کو کراچی میں بیشتر شاپنگ مالز اور بازار جزوی طور پر بند رہے۔ کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے صدر سے صورتِ حال بتا رہے ہیں ہمارے نمائندے محمد ثاقب۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے 82 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 8007 ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں کرونا وائرس کے 16 مریض، نئے قرنطینہ مراکز بنانے کی تیاریاں
بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ بدھ کو پاکستان اور ایران کی سرحد کے قریب تفتان کے قرنطینہ میں موجود سندھ سے تعلق رکھنے والے 750 زائرین کو صوبے میں بھیج دیا گیا ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایران سے پاکستان آنے والے 2200 سے زائد زائرین کو تفتان کے قریب چار مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کے جنوبی علاقے میاں غونڈی میں قائم قرنطینہ مرکز میں بھی 600 زائرین کو رکھا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ صوبۂ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد زائرین کو ان کے علاقوں میں آج روانہ کر دیا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے دو نواحی علاقوں میں نئے قرنطینہ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ دونوں مراکز میں تفتان سے لائے جانے والے زائرین کو رکھا جائے گا۔ ان سینٹرز میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے موبائل لیبارٹریز بھی ہوں گی۔