کرونا وائرس: ایران سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی
ایران میں کرونا وائرس کے ہزاروں کیسز اور ہلاکتوں کی وجہ سے خوف کی فضا قائم ہے۔ ایران میں مقیم افغان پناہ گزین بھی وطن واپس جانا شروع ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق تین ماہ میں تقریباً 83 ہزار افغان پناہ گزین ایران سے افغانستان جا چکے ہیں۔
بھارت میں کرونا وائرس کے مزید 27 مریض، ایران میں 255 بھارتی 'کووڈ 19' میں مبتلا
بھارت کی 11 مختلف ریاستوں میں کرونا وائرس کے مزید 27 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں 'کووڈ 19' کے مریضوں کی تعداد 169 ہو گئی ہے جب کہ تین افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کیے گئے 169 افراد میں سے 25 غیر ملکی ہیں۔
وائرس سے متاثرہ خلیجی ملکوں مثلاً متحدہ عرب امارات، کویت، قطر اور عمان سے 19 سے 31 مارچ کے دوران 26 ہزار بھارتی باشندوں کی ممبئی آمد متوقع ہے۔ ان تمام لوگوں کو 14 دنوں تک قرنطینہ مراکز میں رکھا جائے گا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں 255 بھارتی باشندوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی جمعرات کو کرونا وائرس کے موضوع پر عوام سے خطاب کریں گے۔
چین میں پہلی مرتبہ کرونا وائرس کا یومیہ کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا
چین میں جمعرات کو پہلی مرتبہ کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ گزشتہ برس دسمبر میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ ایک روز کے دوران کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔
چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ووہان سے گزشتہ سال اس وائرس کی وبا عام ہوئی تھی وہاں بھی کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ چین میں جنوری سے روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں نئے کیسز سامنے آ رہے تھے جس میں بتدریج کمی واقع ہو رہی تھی۔
وسطی چین کے شہر ووہان کی ایک کروڑ سے زائد آبادی اور صوبہ ہوبے کے دیگر شہروں میں رہنے والے چار کروڑ افراد 23 جنوری سے سخت حالات کا سامنا کر رہے تھے۔ جہاں پورا صوبہ مکمل طور پر لاک ڈاؤن تھا۔
چینی حکومت نے اب بھی ملک بھر میں عوامی اجتماعت کو محدود سے محدود تر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہوئے ہیں۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق ملک بھر میں 81 ہزار افراد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جن میں سے 7245 افراد تاحال زیرِ علاج ہیں۔
کرونا وائرس سے عالمی سطح پر متاثرین کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ 8263 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
پنجاب میں تفریحی مقامات بند، نیا ہدایت نامہ جاری
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں سیاحتی مقامات کو فوری بند کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں صرف ضروری ملازمین کی حاضری یقینی بنانا نمایاں ہیں۔
لاہور سے وائرس آف امریکہ کے نمائندے ضیا الرحمٰن کے مطابق حکومتِ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ مری سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر عوام کا داخلہ ممنوع ہو گا۔ پبلک پارکس بھی شہریوں کے لیے تاحکم ثانی بند رہیں گے۔
اسی طرح فارميسی اور گروسری کے علاوہ ديگر تمام دکانيں، شاپنگ مالز اور ريستوران کو رات دس بجے ہر صورت بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے مطابق سرکاري دفاتر ميں عوام کا داخلہ بند ہو گا اور صرف ضروری ملازمین کو ہی دفاتر میں بلایا جائے گا جب کہ دیگر عملہ اسکائپ یا فون کال پر دستياب ہو گا۔
صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری اجلاسوں میں چند ضروری افراد کو ہی بلايا جائے اور اگر ضروری ہو تو دیگر افراد کو بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک کیا جائے۔