رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:43 20.3.2020

سعودی عرب: اندرون ملک پروازیں اور ٹرینیں 14 روز کے لیے معطل

سعودی عرب میں اب تک 274 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سعودی عرب میں اب تک 274 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

سعودی عرب نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر اندرون ملک پروازوں، بسوں، ٹیکسیز اور ٹرینوں کو 14 روز کے لیے معطل کر دیا ہے۔

سعودی عرب میں اب تک 274 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ تاہم اب تک اس وائرس سے سعودی عرب میں کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سعودی حکام نے جمعے کو اندرونِ ملک سفر پر بھی پابندی کا اعلان کیا ہے جس کا اطلاق ہفتے سے ہو گا۔

10:36 20.3.2020

ایران میں مقدس مقامات بند

ایران میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے مقدس مقامات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایران میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے مقدس مقامات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کرونا وائرس کے اثرات کے سبب اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سعودی عرب کی طرح ایران میں بھی مشہد، قُم اور دوسرے شہروں میں واقع مقدس مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔

یہ اقدام ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب ایران میں سال نو کی چھٹیاں ہیں اور آج سے نو روز کا آغاز ہو رہا ہے۔

ایران میں اس وائرس کے شدید اثرات دیکھے جا رہے ہیں اور نوروز کے موقع پر جہاں بہت بڑے پیمانے پر عوامی سرگرمیاں اور نقل و حمل ہوتی تھیں اب عوامی سطح پر بہت محدود سرگرمیاں ہو رہی ہیں۔

تہران میں مقیم سینئر صحافی ڈاکٹر راشد نقوی نے وائس امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس روز کے آغاز کے موقع پر مشہد میں واقع امام کے روضے پر بہت بڑی تعداد میں لوگ صبح کے وقت جمع ہوتے ہیں اور دعائیں کی جاتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ روضہ بند ہے اور کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں بتایا کہ بیشتر مساجد میں آئمہ کی ان حالات میں عدم موجودگی کے سبب با جماعت نمازوں کا سلسلہ بھی جاری نہیں ہے اور جمعے کے اجتماعات بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

20:25 19.3.2020

کرونا وائرس: بھارت میں 22 مارچ کو 'جنتا کرفیو' نافذ ہو گا

modi Namaste
modi Namaste

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کرونا وائرس سے متعلق قوم سے خطاب کرتے ہوئے 22 مارچ کو ملک بھر میں علامتی 'جنتا کرفیو' نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ 'جنتا کرفیو' کو سپورٹ کریں اور کم از کم 10 لوگوں کو اس کرفیو سے متعلق آگاہ کریں۔

نریندر مودی نے کہا کہ لوگوں کو فون اور دیگر ذرائع سے اس کرفیو کے بارے میں آگاہ کریں اور انہیں گھروں پر رہنے کی تلقین کریں۔

وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ 'جنتا کرفیو' سیلف کنٹرول کی علامت ہوگا۔ لیکن یہ کرفیو صحت عامہ سے متعلق افراد، ایمرجنسی سروسز اور میڈیا پر لاگو نہیں ہوگا۔

جنتا کرفیو صبح سات سے رات نو بجے تک نافذ کیا جائے گا۔ نریندر مودی نے لوگوں کی ہدایت کی ہے کہ وہ شام پانچ بجے اپنے گھروں کے دروازوں یا بالکونی میں کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور صحت عامہ کے لیے کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کریں۔

20:07 19.3.2020

پاکستان میں کرونا وائرس کے 326 مریض: 'گھبرانے کی ضرورت نہیں'

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے 326 کنفرم کیسز ہیں لیکن گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان اس میں تنہا نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں دو لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد میں اس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

یہ گفتگو ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران کی۔ اس دوران ان کے ہمراہ پاکستان کی فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار بھی موجود تھے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس پر قابو پانے کے لیے فوج پوری طرح متحرک ہے۔ وفاق اور صوبوں کے ساتھ مل کر کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے ان ایکشن ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستانی اور چینی ماہرین کے درمیان جلد رابطہ ہوگا جس میں اس مسئلہ کو ختم کرنے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتِ حال میں یہ وقت سیاست، تنقید یا پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ مل کر اس وبا سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وہ وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنے حلقوں میں شعور اجاگر کریں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ وقت وزیرِ اعظم پر تنقید کا نہیں ہے۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت تمام صوبائی حکومتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG