امریکہ کی دو مزید ریاستوں میں لاک ڈاؤن، سات کروڑ امریکی گھروں میں محصور
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے امریکہ کی ریاست نیویارک اور الینوائے نے بھی جمعے کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا ہے اور شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ یوں کیلی فورنیا سمیت امریکہ کی تین ریاستیں اب لاک ڈاؤن میں ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق کرونا وائرس کے باعث امریکہ کی تین ریاستوں میں لگ بھگ سات کروڑ شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایات دی ہیں۔
لاک ڈاؤن کے باعث امریکہ کے تین بڑے شہر نیویارک، لاس اینجلس اور شکاگو بھی بند ہیں۔ سان فرانسسکو اور سان ڈیاگو بھی لاک ڈاؤن میں ہیں۔
نیویارک کے گورنر انڈریو کوؤمو نے جمعے کو کہا کہ اب زندگی معمول کے مطابق نہیں رہی ہے۔ اسے تسلیم کریں، اس کا ادراک کریں اور اس صورتِ حال کا مقابلہ کریں۔
سنگاپور میں کرونا وائرس سے پہلی دو ہلاکتیں
سنگاپور نے ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی پہلی دو ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔
سنگاپور کی وزارتِ صحت سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'کووڈ 19' میں مبتلا ایک 75 سالہ خاتون ہفتے کو ہلاک ہو گئی ہیں۔ وہ 23 فروری سے اسپتال میں داخل تھیں۔
دوسری ہلاکت ایک 64 سالہ انڈونیشین شہری کی ہوئی ہے جو سنگاپور میں مقیم تھا۔ مذکورہ شخص کرونا وائرس کے علاوہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا تھا اور 13 مارچ سے اسپتال میں داخل تھا۔
سنگاپور میں کرونا وائرس کے 385 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً نصف تعداد بیرونِ ملک سے سنگاپور آنے والوں کی ہے۔
دو ہلاکتوں کے بعد سنگاپور نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ سنگاپور میں داخل ہونے والے تمام افراد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 14 روز قرنطینہ میں لازمی گزاریں۔
آسٹریلیا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند
جمعے کے دن سے آسٹریلیا میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ فلائٹس منسوخ ہونے کی وجہ سے بین الاقوامی سیاحوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، آسٹریلیا ایک قلعے کی صورت اختیار کر رہا ہے اور جمعے کے دن سے غیر ملکیوں کو آسٹریلیا میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس سے پہلے چین، ایران، جنوبی کوریا اور اٹلی سے آنے والے مسافروں کا داخلہ بند کیا گیا تھا۔
خوبصورت شگوفوں سے لدے چیری کے درخت کرونا وائرس کے باعث افسردہ
واشنگٹن کے دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے چیری کے درخت اس ہفتے اپنے جوبھن پر ہیں۔ لیکن، ہر سال یہاں آنے والوں کے ہجوم نظر نہیں آ رہے۔ واشنگٹن میں ایک جگہ ہے ٹائیڈل بیسن۔ یہ ایک مصنوعی جھیل ہے جس کے کناروں پر چیری کے ہزاروں درخت اپنی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔
یوشینو چیری درخت اس سال سرد موسم میں درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی خوبصورت شگوفوں سے لد گئے ہیں۔ لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے بیشتر لوگ باہر نکلنے اور ہجوم میں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔