سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان
حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں اتوار اور پیر کی رات سے مکمل لاک ڈاون ہو گا اس دوران شہریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ لاک ڈاون پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ کافی چیزوں پر مشاورت کی گئی یے۔ اس معاملے پر علما کرام، سیاست دانوں اور انتظامیہ سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔ جس کے بعد اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے آج رات 12 بجے سے لاک ڈاؤن شروع ہو جائے گا۔
سندھ کے وزیر اعلی نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے تعاون کے بغیر ہماری پوری محنت رائیگاں ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک، سیپکو، حیسکو واٹر بورڈ اور ایس ایس جی سی کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی علاقے میں لوڈ شیڈنگ نہ کی جائے۔ چار ہزار سے زیادہ بجلی کا بل قسطوں میں وصول کیا جائے گا۔
اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی بھی 2000 روپے سے زائد کا بل 10 قسطوں میں وصول کرے گی۔
کرونا وائرس: پاکستان سے امریکی سفارت خانے کے 75 اہلکار واپس روانہ
پاکستان میں کرونا کی صورت حال کے باعث امریکی سفارت خانے کے 75 اہلکار واپس امریکہ روانہ ہوگئے ہیں۔ یہ افراد خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔
امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14مارچ کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کسی بھی سفارتی مشن سے رضاکارانہ واپسی کی اجازت دی تھی۔ اجازت سفارتی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تھی جو خود کو کرونا کے پھیلاؤ کی صورت میں رسک سمجھتے ہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ اجازت ان کے لیے بھی تھی جنہوں نے جائز وجوہات کی وجہ سے کسی اسٹیشن سے رخصت کی درخواست کی تھی۔
اسلام آباد سے 22 مارچ کو امریکی سفارت خانے کے متعدد اہلکار امریکہ روانہ ہوگئے ہیں۔
یہ سفارتی اہلکار ایک نجی کمپنی کی پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں امریکی شہریوں کو ایمرجنسی ویزا سروسز مہیا کر رہے ہیں۔ امریکی شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ اسمارٹ ٹریول انرولمنٹ پروگرام میں خود کو رجسٹر کروائیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ امریکی سفارت خانہ پاکستان حکومت، کمپنیوں اور عوام کے ساتھ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔
خیبرپختونخوا میں جزوی لاک ڈاؤن
کرونا وائرس کے پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت نے سوموار کی صبح سے ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ پر سات دن کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
صوبے میں پہلے ہی سے شاپنگ مالز، ہوٹل، ریستوران وغیرہ کے کھولنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبے میں کرونا وائرس سے متاثرہ 27 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ دیگر کے ٹیسٹ اور طبی معائنے کے بارے میں نتائج کا انتظار ہے۔
اب کا کہنا تھا کہ صوبے میں اب تک 2 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعلامیے کے مطابق سوموار کی صبح 9 بجے سے پہلے تمام بین الاضلاع ٹرانسپورٹ اڈے ہر صورت بند ہونے چاہئیں۔
ادھر جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشنر محمد عمیر نے کہا ہے کہ 241 زائرین اس وقت ڈیرہ اسماعیل خان کے گومل میڈیکل کالج کے قرنطینہ میں موجود ہیں جب کہ مجموعی طور پر 500 کے قریب زائرین اور اسٹاف گومل میڈیکل کالج تک ہی محدود ہے جنہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
خیبرپختونخوا کے محکمہ جیل خانہ جات نے بھی صوبے کے مختلف جیلوں میں بند قیدیوں کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ماسک اور صابن وغیرہ فراہم کیے ہیں۔
انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے تمام حکام کو ہدایت کی ہے کہ قیدیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جائے۔
صوبائی حکومت نے پہلے ہی قیدیوں کی سزا میں دو دو ماہ کی تخفیف کا اعلان کر چکی ہے۔
کشمیر میں 24 گھنٹے میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
کشمیر کے محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کشمیر میں کل 42 افراد کے کرونا وائرس کے شبہے میں ٹیسٹ کیے گئے۔ جن میں سے 37 کے رزلٹ آچکے ہیں۔ 36 کے رزلٹ نیگٹو آئے ہیں اور ان میں کرونا وائرس موجود نہیں ہے جب کہ ایک نتیجہ پازٹیو آیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق پانچ افراد کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز ایران سے واپس آنے والے 13 زائرین کو میرپور منتقل کر دیا گیا ہے جن کے ٹیسٹ لے کر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے گئے۔
محکمہ صحت کا عملہ کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر موجود ہے اور انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کر رہا ہے۔