رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:52 23.3.2020

کشمیر میں کرونا وائرس کے 16 نئے مشتبہ کیس

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شبہے میں 16 نئے کیس درج ہوئے۔ جن کے ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز ارسال کیے گئے ہیں۔

محکمہ صحت کی جانب جاری اعلامیے کے مطابق کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہے میں کل 60 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 40 کے نتائج آ چکے ہیں جب کہ 39 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی اور ایک شخص میں کرونا وائرس پایا گیا۔ جس کو قرنطینہ سینٹر میرپور منتقل کر دیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق20 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ محکمہ صحت کا عملہ کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر موجود ہے اور انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کر رہا ہے جب کہ کرونا وائرس کا شبہ ہونے کی صورت میں مذکورہ افراد کو قریبی قرنطینہ سینٹرز منتقل کیا جا رہا ہے۔

18:45 23.3.2020

امارات میں پھنسے مسافروں کو لانے کے لیے ایک پرواز پاکستان لانے کی اجازت

وفاقی حکومت نے دبئی اور ابوظہبی میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے ایک پرواز پاکستان لانے کی اجازت دے دی ہے۔

ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق دبئی اور ابوظہبی ایئر پورٹ پر 150 پاکستانی موجود ہیں جو پروازیں بند ہونے کی وجہ سے ان ہوائی اڈوں پر پھنس گئے تھے۔ پاکستان آنے والی پروازوں پر 22 مارچ سے مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔

ایوی ایشن ڈویژن کا کہنا ہے کہ ان 150 مسافروں کو وطن واپس لانے کے لیے فلائی دبئی کی ایک پرواز 24 مارچ کی صبح 12 بج کر 10 منٹ پر اسلام آباد پہنچے گی۔ اسلام آباد لائے جانے والے ان تمام مسافروں کی مکمل اسکریننگ کی جائے گی۔ جس کے بعد انہیں گھروں میں جانے یا قرنطینہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

18:40 23.3.2020

کرونا کے خطرے کے پیش نظر پنجاب میں لاک ڈاون

پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لاک ڈاون 24 مارچ سے 4 اپریل 2020 تک جاری رہے گا۔

صوبہ پنجاب میں لاک ڈاون کا اہمم فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی برائے کرونا کے اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انسداد کرونا کے لیے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرونا وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے صوبہ بھر میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاون کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں صوبے بھر کے شاپنگ مالز، بازار، دکانیں، پارکس، ریسٹورنٹس اور عوامی اجتماعات والی تمام جگہیں بند ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو نہیں ہے۔ صوبے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔ پنجاب بھر میں ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔

18:29 23.3.2020

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 21 دن کے لیے لاک ڈاؤن

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پیر کی شب 12 بجے سے 21 دن کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاون کا اعلان وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کیا۔ اس دوران عوام کے غیرضروری سفر کرنے اور باہر نکلنے پر پابندی ہو گی جب کہ ہر قسم کی ٹرانسپورٹ مکمل معطل رہے گی۔

وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ناگزیر حالات میں سفر کرنے کے لیے خصوصی پاسز جاری کیے جائیں گے کھانے پینے کا سامان لانے کے لیے گھر کے ایک فرد کو اجازت ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی حفاظت کے لیے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ کرفیو نہیں ہے بلکہ حفاظتی انتظامات ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG