خیبر پختونخوا میں 28 مارچ تک سرکاری دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ بند
خیبرپختونخوا حکومت نے ہفتہ 28 مارچ تک تمام سرکاری اداروں کے دفاتر بند کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 24 مارچ سے 28 مارچ تک صوبے کے تمام اضلاع میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی بند رہے گی۔
صوبائی مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ پابندی کا اطلاق ٹیکسیوں اور آٹو رکشا پر بھی ہو گا۔
خیبرپختونخوا کی حکومت نے بین الاضلاع ٹرانسپورٹ پر 23 مارچ سے پابندی عائد کر رکھی ہے۔
آرمی چیف کی ملک بھر میں فوج کی تعیناتی کی منظوری
پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے سول اداروں کی مدد کے لیے فوج کو طلب کرلیا ہے۔ لائن آف کنٹرول اور مغربی سرحد پر تعیناتی کے باوجود آرمی چیف نے ملک بھر میں کرونا وائرس کے حوالے سے فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
راولپنڈی میں نیوز کانفرنس کے دوران میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت کرونا وائرس کا شدید چیلنج درپیش ہے۔ ان حالات میں عوام کا ریاست پر اعتماد ہی اس صورت حال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ان کے بقول ایک خصوصی کور کمانڈرز کانفرنس میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے افواجِ پاکستان کی سول اداروں کی امداد کے لیے تیاری اور ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے اعلان کیا کہ 4 اپریل تک وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے تحت صرف خوراک اور طبی سہولیات کے مراکز کھلیں گے جب کہ کھانے پینے کی اشیا اور میڈیکل سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل اسٹورز کھلیں رہیں گے۔ اس دوران تمام اسکولز اور ہر قسم کے اجتماع پر پابندی ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام قسم کے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹ، سینما، شادی ہال اور سوئمنگ پولز کھولنے سمیت غیر ضروری نقل وحرکت پر پابندی ہو گی۔ انٹرسٹی ٹرانسپورٹ صرف خوراک سپلائی چین کے لیے استعمال کی جائے گی۔ شہر وں کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ تمام ایئر پورٹس انٹرنیشنل پروازوں کے لیے چار اپریل تک بند رہیں گے۔ صوبائی حکومتوں کے اعلان کردہ دنوں پر پیٹرول پمپس اور منڈیاں کھلیں گی۔
فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ آرمی چیف نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ، بریگیڈیئرز سے لیفٹیننٹ جنرلز تک 3دن، کرنل تک کے عہدے کے آفیسرز نے 2 دن اور سپاہیوں نے اپنی ایک دن کی تنخواہ اس وَبا سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے مزید کیس سامنے آ گئے
خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس کے سات نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ صوبے میں کرونا کیسز کی تعداد 38 ہوگئی ہے۔
اجمل وزیر نے مزید کہا کہ 24 گھنٹوں کے دوران نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سات نئے کیسز پشاور، کرک، مانسہرہ اور بونیر سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے میں 235 نئے مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 120 کیسز کا رزلٹ نیگیٹیو آیا ہے۔ 290 کیسز کا رزلٹ آنا باقی ہے۔
اجمل وزیر کے مطابق کرونا وائرس سے خیبرپختونخوا میں اب تک 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے ہفتہ 28 مارچ تک تمام سرکاری اداروں اور دفاتر بند کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا۔
مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق 24 مارچ سے 28 مارچ تک تمام اضلاع میں پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بین الاضلاع ٹرانسپورٹ پر 23 مارچ سے پابندی عائد کر دی تھی۔