پاکستان میں کرونا متاثرین کی تعداد 892 ہو گئی
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی
پاکستان اسٹاک ایکسچینچ میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز شدید مندی کا رجحان رہا جس کے باعث ٹریڈنگ دو گھنٹے کے لیے روک دی گئی۔
ٹریڈنگ کے دوران 30 انڈیکس میں سات اعشاریہ تین چھ فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری مندی کی وجہ عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال بتائی جاتی ہے۔
میانمار میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ
پانچ کروڑ 40 لاکھ افراد پر مشتمل میانمار میں اب تک کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ اس کے باوجود ایک کروڑ 70 لاکھ افراد اپنے گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے تھے۔
ماہرین طب اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار میں لوگوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے پر زور دیا تھا جس پر پیر کو 214 افراد کے ٹیسٹ کرائے گئے۔
ٹیسٹ کے بعد وزارتِ صحت نے دو افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ افراد میں سے ایک 36 سالہ شخص امریکہ اور دوسرا 26 سالہ فرد برطانیہ سے واپس آیا تھا۔
اس حوالے سے وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ان تمام افراد کا ٹیسٹ کیا جائے گا جن سے یہ دونوں افراد ملتے رہے ہیں۔
اس اعلان کے ساتھ ہی میانمار کے دارالحکومت ینگون میں کے شہریوں نے سپر مارکیٹس اور دیگر بازاروں سے خریداری شروع کر دی ہے۔
میانمار کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کا کوئی کیس موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ میانمار کی 2100 کلو میٹر طویل سرحدیں چین سے ملتی ہیں جہاں دنیا میں سب سے پہلے کرونا وائرس دریافت ہوا تھا۔
کرونا وائرس: دہلی پولیس نے شاہین باغ کا دھرنا جبراً ختم کرا دیا
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 کے تحت شاہین باغ کے علاقے میں شہریت قانون مخالف دھرنے کو جبراً ختم کرا دیا ہے۔
نئی دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کا دھرنا گزشتہ 100 دنوں سے جاری تھا۔ پیر کی صبح پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دھرنا گاہ پہنچی اور مظاہرین سے جگہ خالی کرنے کا کہا۔ پولیس کے کہنے پر جب مظاہرین نہ ہٹے تو دھرنا گاہ کو جبراً خالی کرا لیا گیا۔
کارروائی کے دوران چھ خواتین اور تین مردوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
اس موقع پر علاقے کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور پولیس کارروائی کی مخالفت کی۔ تاہم پولیس لوگوں کو سمجھاتی رہی کہ یہ کارروائی ان کی صحت کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔ جس کے بعد مقامی لوگ کچھ دیر وہاں موجود رہنے کے بعد رفتہ رفتہ منتشر ہو گئے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے شاہین باغ کے علاوہ جعفر آباد، حوض رانی اور ترکمان گیٹ پر جاری خواتین کے دھرنے بھی ختم کرا دیے ہیں۔