رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

23:26 24.3.2020

کرونا وائرس کے مریض 4 لاکھ، ہلاکتیں 18 ہزار

عالمگیر وبا کرونا وائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد منگل کو چار لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد 18 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ عالمی ادارہ صحت نے ایک دن پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وبا کے پھیلاؤ میں کمی کے بجائے تیزی آرہی ہے۔

اٹلی میں دو دن تک ہلاکتوں میں پہلے کی نسبت معمولی کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ایک دن میں مزید 743 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اسپین میں بھی 489 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے بطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی میں 5249 نئے کیسز سامنے آئے۔ اس طرح مجموعی تعداد 70 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ملک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 6820 ہوگئی ہے۔

اسپین میں منگل کو 4540 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جس کے بعد مجموعی تعداد لگ بھگ 40 ہزار ہوگئی ہے۔ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 2800 تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ میں منگل کی سہہ پہر تک 5860 نئے کیسز کا علم ہوا تھا جس کے بعد مجموعی تعداد تقریباً 50 ہزار تھی۔ یہاں آج کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد کل تعداد 622 ہوچکی ہے۔

ایران میں منگل کو 1762 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی اور 122 افراد جان سے گئے۔ یہ بات بعد ماہرین کے لیے تعجب کا سبب ہے کہ ایران میں ایک خاص شرح سے کیسز اور ہلاکتیں ہورہی ہیں جن میں غیر معمولی اضافہ یا کمی نہیں ہورہی۔ وہاں مریضوں کی کل تعداد تقریباً 25 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 1934 ہے۔

23:24 24.3.2020

اسپین میں آئس رنک مردہ خانے میں تبدیل

یورپ میں کرونا وائرس کی وجہ سے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں اور کئی ملکوں میں حکام پریشان ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران اتنی بڑی تعداد میں لاشوں کی تدفین کیسے کی جائے؟

ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہے کہ گورکن کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کو عام میتوں کی طرح سپرد خاک نہیں کرسکتے کیونکہ اس طرح ان کے بھی وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے خصوصی لباس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہسپانوی حکام نے میڈرڈ کے 14 قبرستانوں میں اسی لیے تدفین روکی ہوئی ہے کہ ان کے گورکنوں کے پاس حفاظتی لباس نہیں۔

ان حالات کی وجہ سے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں ایک آئس رنک کو عارضی طور پر مردہ خانے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ آئس رنک برف کے اس میدان کو کہتے ہیں جس پر آئس اسکیٹنگ کی جاتی ہے۔ یہ آئس رنک میڈرڈ کے شاپنگ مال پلاسیو ڈی ہیلو یا آئس پیلس میں قائم ہے جس میں 1800 اسکیٹرز کی گنجائش ہے۔ مقامی حکام نے بتایا کہ اسے لاشوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اسپین میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں منگل تک 40 ہزار کیسز کی تصدیق ہوچکی تھی۔ پیر کو ایک دن میں 539 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2700 ہوچکی ہے جن میں سے نصف ہلاکتیں میڈرڈ اور اس قرب و جوار میں ہوئی ہیں۔

23:22 24.3.2020

امریکہ کو مکمل بند نہیں ہونا چاہئے، صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارتاً کہا ہے کہ وہ ملک میں سماجی فاصلے کی پابندی میں کمی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پیر کے روز کہا کہ ہمارے ملک کو مکمل طور پر بند نہیں ہونا چاہئیے تھا۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کی طرف سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملک بھر میں شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے سلسلے میں کیا اقدامات ضروری ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مسلسل جاری اقتصادی بحران کے باعث ہونے والی ہلاکتیں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے ہونے والی اموات ایک فیصد سے بھی کم ہیں اور یہ شرح توقعات سے کہیں کم رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکا کاروبار کیلئے جلد دوبارہ کھلے گا۔ انہوں نے اس خیال کو رد کر دیا کہ اس کیلئے تین سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔

23:19 24.3.2020

بھارت میں 21 دن کے لیے لاک ڈاؤن کا اعلان

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کی رات سے ملک بھر میں 21 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔

عالمگیر وبا سے متعلق قوم سے دوسرے خطاب میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ انھوں نے کہا کہ مختلف ملکوں کے تجربات کے پیش نظر اور ماہرین کے مطابق اس کو پھیلنے سے روکنے کا واحد طریقہ سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی دوری ہے۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ اگر وہ 21 دن تک سماجی دوری قائم نہیں کریں گے اور اپنے گھروں سے باہر نکلیں گے تو ملک 21 سال پیچھے چلا جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ ملک میں لاک ڈاؤن سے معاشی نقصانات ضرور ہوں گے لیکن وبا کا سلسلہ توڑنے اور لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔ صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے حکومت نے 15 ہزار کروڑ روپے مختص کردیے ہیں۔ عوام کو اشیائے ضرورت کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

بھارت میں اب تک کرونا وائرس کے 500 سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG