رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

11:32 25.3.2020

لاہور میں لاک ڈاؤن: کوئی مطمئن، کوئی ناراض

لاہور میں لاک ڈاؤن: کوئی مطمئن، کوئی ناراض
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:42 0:00

11:29 25.3.2020

ایران کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ہے: امریکہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ متعدد ملکوں میں کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق، اس بارے میں بہت سے شواہد ملے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق یہ خدشات ہیں کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اس وائرس کو پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کم از کم پانچ ایسی مثالیں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کرونا وائرس کا پہلا کیس براہِ راست ایران سے وارد ہوا۔

افغانستان کے حالیہ دورے میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ یہ وائرس جسے انھوں نے ووہان وائرس کا نام دیا، مہلک ہے اور ایران کی حکومت اس میں برابر کی ذمہ دار ہے۔

پومپیو نے اپنے بیان میں الزام لگایا تھا کہ ایرانی حکومت اپنے عوام اور دنیا سے بدستور جھوٹ بول رہی ہے۔ اور اس نے ایرانی عوام اور دنیا بھر کے لوگوں کو بڑے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

مزید پڑھیے

11:24 25.3.2020

نیویارک کے شہریوں کو قرنطینہ میں رہنے کا حکم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کا شہر نیویارک کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں اس وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ حکام نے نیویارک کے مکینوں کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم ٹاسک فورس کے رکن ڈیبورا برکس نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نیویارک کا ہر شہری خود کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھے۔

ڈیبورا برکس نے مزید کہا کہ نیویارک میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد یہ اقدام کیا جا رہا ہے۔

کرونا وائرس سے نیویارک میں اب تک 131 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 2200 افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے 525 کو انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

11:05 25.3.2020

کرونا وائرس: وبا کے دور میں صحافی کیسے کام کر رہے ہیں؟

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

ایک ایسے وقت میں کہ جب زیادہ تر لوگ گھروں سے ہی دفتری کام کرنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے افراد ایسے پیشوں سے بھی منسلک ہیں جو کچھ عرصہ پہلے تک گھر سے کام کرنے کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن کرونا وائرس نے شہروں اور ملکوں کی حالت کچھ ایسے بدلی ہے کہ میڈیا اور صحافت سے جڑے افراد بھی پہلی بار دفتروں اور فیلڈ سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سلمانی قاضی بھی ایک ایسے ہی صحافی ہیں جو گزشتہ 22 سال سے کیمرے کی آنکھ سے دنیا کو دیکھ بھی رہے ہیں اور لوگوں کو بھی دکھا رہے ہیں۔ کام کرنے کا پورا ماحول بدلنے کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ افغان جنگ سے لے کر دہشت گردی اور بم دھماکوں میں مرنے والوں تک انہوں نے بے شمار کہانیاں اپنے کیمرے سے فلم بند کیں۔ لیکن موجودہ صورتِ حال کا موازنہ کسی اور منظر سے نہیں کیا جا سکتا۔

سلمان قاضی کے بقول جو ماحول اس وقت ہے، ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ رپورٹر ہو یا کیمرہ مین، ان کے لیے اب بھی اُن جگہوں پر جانا ناگزیر ہے جہاں کوئی دوسرا شخص نہیں جانا چاہتا۔

سلمان قاضی کا کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں صحافیوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ ان کے بقول جب سے ایک میڈیا ادارے میں کرونا وائرس سے ایک صحافی کے متاثر ہونے کا واقعہ ہوا ہے، تب سے میڈیا ہاؤسز نے اپنے کام کے اوقات بھی بدلے ہیں اور زیادہ لوگوں کو چھٹی دینے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

سلمان قاضی نے کہا کہ آج بھی شاید ہی کوئی کیمرہ مین ایسا ملے جو کام سے انکار کرے گا۔ اس کی ایک وجہ جہاں ان کے سخت حالات میں کام کرنے کے سابقہ تجربات ہیں، وہیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کا ڈر بھی ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG