خیبر پختونخوا میں ایک ڈاکٹر کرونا وائرس سے متاثر
خیبر پختونخوا کے شہر سوات کے علاقے مانیار میں امریکہ سے آئے ہوئے ایک ڈاکٹر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
سوات میں محکمہ صحت کے افسر ڈی ایچ او ڈاکٹر اکرام شاہ نے بتایا کہ ڈاکٹر جواد عالم ایک ہفتہ قبل امریکہ سے سوات آئے تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس لیے انہوں نے وہ مانیار میں خود ساختہ تنہائی اختیار کیے رہے۔
ڈاکٹر جواد عالم نے کسی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملایا اور نہ ہی کسی تقریب میں شرکت کی۔ چار دن سوات میں رہنے کے بعد، وہ ایبٹ آباد منتقل ہو گئے تھے۔
ضلعی ہیلتھ افسر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ باہر ملکوں سے آئے ہوئے تمام لوگوں پر نظر رکھی جائے اور ان کی آمد کی اطلاع فوراً محکمہ صحت کو دی جائے۔
امریکہ کرونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے کہا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ وہ کرونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 85 فی صد نئے کیسز یورپ اور امریکہ سے رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 40 فی صد صرف امریکہ میں رپورٹ ہوئے۔
کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم ٹاسک فورس کے رکن ڈیبورا برکس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نیویارک کا ہر شہری خود کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھے۔
'کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کرنے والا عملہ مساجد نہ آئے'
پاکستان کے مختلف مسالک کے جید علما نے کہا ہے کہ وہ طبی عملہ اور نوجوان جو کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کر رہے ہیں مساجد نہ آئیں۔ وہ گھر پر بھی جماعت سے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
کراچی میں گورنر ہاؤس سندھ میں اجلاس کے بعد مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن، شہنشاہ نقوی سمیت دیگر مسالک کے جید علما نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علما کا کہنا تھا کہ نابالغ بچوں کو بھی مساجد نہ لایا جائے تاکہ ان کو مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ باجماعت نماز گھر کی خواتین اور اہل خانہ کے ہمراہ بھی ادا ہو سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ طبی عملہ اور نوجوان جو کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج اور تیمارداری کر رہے ہیں۔ ان کے باجماعت نماز کے لیے مسجد نہ آنے پر گناہ نہیں ہوگا۔ وہ گھر میں جماعت کروا سکتے ہیں۔
علما نے مساجد صاف رکھنے، پردے اور قالین ہٹانے جب کہ مرکزی دروازوں پر سیناٹائزر لگانے پر بھی زور دیا۔
شہریوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وقت توبہ اور استغفار کا ہے۔ عوام اپنے گناہوں پر توبہ کریں۔
علما نے مساجد کے آئمہ کو جمعے کے دن خطبہ بھی مختصر کرنے کی تاکید کی۔