- By عمر فاروق
پشاور میں لاک ڈاؤن کے باوجود شہری گھروں سے باہر
کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خیبر پختونخوا میں جاری جزوی لاک ڈاؤن کا آج پانچواں روز ہے۔ لیکن صوبے کے سب سے بڑے شہر پشاور کے کئی علاقوں میں چہل پہل ہے اور شہری گھروں سے باہر ہیں۔ مزید تفصیلات بتا رہے ہیں پشاور سے ہمارے نمائندے عمر فاروق۔
- By سدرہ ڈار
'سب کچھ بند ہے، اب ہم کہاں جائیں؟'
کرونا وائرس کے سبب سندھ میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن معمولاتِ زندگی متاثر ہونے سے مزدور طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔ تفصیلات سدرہ ڈار کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں
- By یوسف جمیل
بھارتی کشمیر میں تمام مذاہب کی عبادت گاہیں بند کرنے کا فیصلہ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے علاقے کی تمام مساجد اور خانقاہوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں اور سکھوں کی عبادت گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام کشمیر میں کرونا وائرس یا کووڈ-19 کے ایک مریض کی موت کے بعد کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے بتایا کہ عبادت گاہوں کو کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر بند کرنا ناگزیر ہے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا ان عبادت گاہوں کی انتظامیہ کو اعتماد میں لینے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے 25 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
سرینگر کی درگاہ حضرت بل، جامع مسجد اور خانقاہِ نقشبندیہ کی انتظامیہ نے پہلے ہی انہیں نمازیوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ جموں کے قریب ترکوٹا پہاڑیوں میں واقع ہندوں کی اہم عبادت گاہ ویشنو دیوی مندر کو پچھلے ہفتے زائرین کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
تاہم وادی کی اکثر مساجد میں حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی ایڈوائزریز، ماہرین اور علما کے مشوروں کے برعکس نہ صرف پانچوں وقت باجماعت نمازوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے بلکہ مجالس بھی منعقد کی جارہی ہیں۔
حکام کے مطابق جمعرات کی صبح سرینگر کے ایک سرکاری اسپتال میں جس 65 سالہ شخص کی موت واقع ہوئی اس میں دو دن قبل کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
ہلاک ہونے والا شخص تبلیغی جماعت کا رکن تھا جب کہ اس نے حال ہی میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی، ریاست اتر پردیش اور جموں میں کئی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔
حکومت نے اس بات کا پتہ لگانے کے لیے ایک رکنی کمیشن قائم کر دیا ہے کہ ڈاکٹروں نے کئی روز پہلے اس شخص میں وائرس کی علامات موجود ہونے کے باوجود اسے قرنطینہ میں رکھنے کی بجائے گھر جانے کی اجازت کیوں دی۔
اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹائون اور رمشا کالونی سیل
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹائون اور رمشا کالونی (ایچ نائن) کو سیل کر دیا گیا ہے۔
دونوں علاقوں کو سیل کرنے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں علاقوں میں اسلام آباد پولیس، رینجرز اور فوج کر دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ان دونوں علاقوں میں کرونا وائرس کا ایک،ایک کیس سامنے آیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کی ٹیمیں علاقوں کا معائنہ کر رہی ہیں۔
شہزاد ٹاؤن کی گلی نمبر-6 میں ایک کیس سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے اعلان کیا ہے کہ اس متاثرہ شخص کی ساس کا جنازہ 21 مارچ کو ہوا تھا۔ لہذا جو افراد بھی اس جنازے میں شامل ہوئے تھے وہ افراد علیحدہ کمرے میں رہیں۔ اس کے علاوہ جنازے میں شرکت کرنے والوں کو اپنا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ دونوں علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور سروے کے بعد علاقوں کو کھول دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ بہارہ کہو کاعلاقہ بھی جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔