رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:20 26.3.2020

سیلف آئسولیشن میں بھی جوبائیڈن کی ٹرمپ پر تنقید جاری

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں جاری ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کا پرائمری مقابلہ کرونا وائرس کے باعث رک چکا ہے۔ اس سے قبل کلیدی امیدوار جو بائیڈن نے اپنے حریف امیدوار برنی سینڈرز کے خلاف سوپر ٹیوز ڈے کے مرحلے پر اور اس کے بعد برتری حاصل کر لی تھی۔ تاہم جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم روک دی تھی اور وہ رضاکارانہ طور پر سیلف آئسولیشن یعنی گھر میں محدود ہو گئے تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کرونا وائرس پر قابو پانے سے متعلق اقدامات پر تنقید بڑھنے کے باعث انہیں سیلف آئسولیشن میں رہتے ہوئے بیانات دینے کا موقع مل گیا ہے اور وہ امریکی عوام کو بتا رہے ہیں کہ اگر وہ اس وقت امریکہ کے صدر ہوتے تو اس وبا سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرتے۔

جو بائیڈن نے میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس (کرونا وائرس پر قابو پانے کے) سلسلے میں طبی ماہرین کے مشوروں کو نظر انداز کیا اور اس خطرے کی شدت کو کم ظاہر کیا۔ اگرچہ ان کے انٹیلی جنس اہلکار بھی جنوری میں متعدد بار انہیں اس خطرے سے آگاہ کر چکے تھے۔

جو بائیڈن نے اپنی رہائش گاہ پر قائم ایک چھوٹے سے ٹی وی اسٹوڈیو سے براہ راست تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس خطرے کی علامات کو صدر ٹرمپ نے طویل عرصے تک نظر انداز کیے رکھا اور ان کی انتظامیہ بار بار یہ کہتی رہی کہ یہ خطرہ عام فلو کی طرح مکمل طور پر قابو میں ہے۔

جو بائیڈن نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے وینٹی لیٹر اور سرجیکل ماسک سمیت طبی ساز و سامان کی تیاری کے لیے دفاعی پیداوار کے ایکٹ کے استعمال میں بھی غیر ضروری تاخیر کا مظاہرہ کیا۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگی زمانے کے صدر ہیں اور اگر ایسا ہے تو انہیں اسی انداز میں کام کرنا چاہیے تھا۔

صدر ٹرمپ نے کوریائی جنگ کے زمانے کے قانون کے تحت دو صدارتی حکم ناموں پر دستخط کیے ہیں تاہم یہ بھی کہا ہے کہ وہ انہیں صورت حال انتہائی طور پر بگڑنے کی صورت میں ہی لاگو کریں گے۔

عوامی صحت کی صورت حال اور معیشت کو فعال رکھنے کے لیے صدر ٹرمپ نے خطیر فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ 10 کروڑ لوگوں کے لیے پناہ گاہیں تیار کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

16:50 26.3.2020

پشاور میں لاک ڈاؤن کے باوجود شہری گھروں سے باہر

کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے خیبر پختونخوا میں جاری جزوی لاک ڈاؤن کا آج پانچواں روز ہے۔ لیکن صوبے کے سب سے بڑے شہر پشاور کے کئی علاقوں میں چہل پہل ہے اور شہری گھروں سے باہر ہیں۔ مزید تفصیلات بتا رہے ہیں پشاور سے ہمارے نمائندے عمر فاروق۔

پشاور میں لاک ڈاؤن کے باوجود شہری گھروں سے باہر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:53 0:00
16:49 26.3.2020

'سب کچھ بند ہے، اب ہم کہاں جائیں؟'

کرونا وائرس کے سبب سندھ میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن معمولاتِ زندگی متاثر ہونے سے مزدور طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے۔ تفصیلات سدرہ ڈار کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں

'سب کچھ بند ہے، اب ہم کہاں جائیں؟'
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:31 0:00
16:46 26.3.2020

بھارتی کشمیر میں تمام مذاہب کی عبادت گاہیں بند کرنے کا فیصلہ

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے علاقے کی تمام مساجد اور خانقاہوں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں اور سکھوں کی عبادت گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام کشمیر میں کرونا وائرس یا کووڈ-19 کے ایک مریض کی موت کے بعد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے بتایا کہ عبادت گاہوں کو کووڈ-19 کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر بند کرنا ناگزیر ہے ۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا ان عبادت گاہوں کی انتظامیہ کو اعتماد میں لینے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے 25 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

سرینگر کی درگاہ حضرت بل، جامع مسجد اور خانقاہِ نقشبندیہ کی انتظامیہ نے پہلے ہی انہیں نمازیوں کے لیے بند کر دیا ہے۔ جموں کے قریب ترکوٹا پہاڑیوں میں واقع ہندوں کی اہم عبادت گاہ ویشنو دیوی مندر کو پچھلے ہفتے زائرین کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

تاہم وادی کی اکثر مساجد میں حکومت کی طرف سے جاری کی جانے والی ایڈوائزریز، ماہرین اور علما کے مشوروں کے برعکس نہ صرف پانچوں وقت باجماعت نمازوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے بلکہ مجالس بھی منعقد کی جارہی ہیں۔

حکام کے مطابق جمعرات کی صبح سرینگر کے ایک سرکاری اسپتال میں جس 65 سالہ شخص کی موت واقع ہوئی اس میں دو دن قبل کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

ہلاک ہونے والا شخص تبلیغی جماعت کا رکن تھا جب کہ اس نے حال ہی میں بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی، ریاست اتر پردیش اور جموں میں کئی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔

حکومت نے اس بات کا پتہ لگانے کے لیے ایک رکنی کمیشن قائم کر دیا ہے کہ ڈاکٹروں نے کئی روز پہلے اس شخص میں وائرس کی علامات موجود ہونے کے باوجود اسے قرنطینہ میں رکھنے کی بجائے گھر جانے کی اجازت کیوں دی۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG