رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

19:18 26.3.2020

'پاکستانی کشمیر میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کے لیے کِٹس دستیاب نہیں'

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر برائے ہنگامی صورت حال و شہری دفاع احمد رضا قادری نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کے لیے کِٹس ہی دستیاب نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کشمیر کے لوگوں میں مدافعتی نظام کی مضبوطی بھی ہے جب کہ ہمارے لوگ جفاکش اور محنتی ہیں۔

وزیر برائے ہنگامی صورت حال و شہری دفاع نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کے لیے کِٹس خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کشمیر کی مرکزی یونیورسٹی کے ڈین شعبہ ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر بشیر کانٹھ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں کشمیر میں اب تک صرف دو کیسز ہی سامنے آنا قدرت کی مہربانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ ہوں تو تب پتہ چلے گا کہ اصل صورت حال کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا ہے اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں سے واپس کشمیر پہنچے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان افراد کی باقاعدہ اسکریننگ نہیں کی گئی۔

جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والوں کے ذریعے کرونا وائرس پھیلنا شروع نہ ہو جائے۔

لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل چند روز میں یورپی ممالک سے چار ہزار سے زائد کشمیری تارکین وطن واپس آئے تھے ان افراد کی بھی کسی قسم کی اسکریننگ نہیں کی گئی۔

18:59 26.3.2020

پاکستانی کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہوگئی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ صحت کے مطابق کرونا وائرس کے شبہے میں چار مزید افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔ ان افراد کے ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے ہیں۔

محکمہ صحت عامہ کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہے میں کل 83 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 59 افراد کے ٹیسٹ نتائج آ چکے ہیں۔ جن میں سے 57 افراد میں کرونا وائرس کی موجود نہیں تھا جب کہ 2 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جن افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے انہیں میرپور میں قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق 24 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔

18:46 26.3.2020

لاہور ہائی کورٹ: معمولی جرائم میں قید افراد کے کیسز ترجیحی بنیاد پر سننے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے معمولی جرائم میں قید افراد کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم نامہ کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری ملک مشتاق احمد اوجلہ نے صوبہ پنجاب تعینات تمام سیشن ججز اور جیل سپرنٹنڈنٹس کو ایک مراسلہ لکھا ہے۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں متعلقہ سپرنٹنڈنٹس جیل کو دائر کریں۔

متعلقہ سیشن ججز کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ضمانت کی درخواستیں متعلقہ ٹرائل میں سماعت کے لیے مقرر کریں۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں سزا پانے والے یا زیر ٹرائل ملزموں پر ان ہدایات کا اطلاق نہیں ہو گا۔

عدالتی ہدایات پر وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی کہتے ہیں کہ معمولی جرائم میں قید قیدیوں کی رہائی یا ضمانتوں کو آسان نہیں بنایا گیا بلکہ اِس میں بہت سے پیچیدگیاں ہیں۔

ان کے بقول ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عدالتیں جیلوں کے اندر ہی جوڈیشل افسر مقرر کر دیتیں جو جیل سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ مل کر موقع پر ہی فیصلے کرتے۔ ایسی ضمانتوں میں مجرمان کے گھر والوں کو شامل کرنا پڑے گا اور وکلا کو بھی عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا۔ بات وہی میل ملاپ والی آ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وکلا صاحبان کرونا وائرس اور حکومتی لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف ضروری کیسز میں عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ عدالت کو اِس سارے عمل کو بہت زیادہ آسان بنانا چاہیے تھا۔

واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پہلے ہی ایسے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں احکامات جاری کر چکے ہیں۔

18:19 26.3.2020

کرونا وائرس: اسلام آباد میں شہزاد ٹاؤن کا علاقہ سیل

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ شہزاد ٹاؤن کے علاقے کو سیل کر دیا ہے۔ علاقے میں 500 سے زائد گھر ہیں جن کے مکیںوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ پولیس اور رینجرز نے علاقے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا ہوا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG