لوگ نمازِ جمعہ گھروں سے ادا کریں، مساجد سے اعلانات
پاکستان میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی سے قبل مساجد سے اعلانات کیے گئے کہ شہری اپنے گھروں میں ہی نماز ادا کریں اور مسجد نہ آئیں۔ کرونا وائرس کے پیشِ نظر صوبائی حکومتوں نے مساجد میں نمازوں کے اجتماعات محدود کرنے کا حکم دیا ہے۔
کراچی: پابندی کے باوجود میمن مسجد میں نمازِ جمعہ کا اجتماع
کراچی کی میمن مسجد میں حکومتی پابندی کے باوجود لوگ جمع ہوئے اور نمازِ جمعہ ادا کی۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر گزشتہ روز مساجد میں نماز کے اجتماعات محدود کرنے کا حکم دیا تھا اور ایک مسجد میں تین سے پانچ نمازیوں کی اجازت دی تھی۔
بلوچستان کی مساجد میں بھی پابندی کے باوجود شہریوں نے مساجد میں نماز جمعہ باجماعت ادا کی۔ حکومتِ بلوچستان نے علمائے کرام کی مشاورت کے بعد شہریوں کو گھروں میں نماز ظہر ادا کرنے کی ہدایت کی تھی۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں زیادہ تر لوگوں نے نماز جمعہ گھروں اور حجروں میں ادا کی۔ پشاور سمیت بیشتر شہروں میں مساجد میں باجماعت نماز بھی ادا کی گئی، لیکن نمازیوں کی تعداد کم رہی۔
کرونا وائرس سے متاثرہ ضلع بونیر سمیت کئی اضلاع کے انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدے داروں نے اعلانات کے ذریعے لوگوں سے مساجد میں نہ آنے کی اپیل کی۔
سارک ممالک کے ساتھ مل کر اس وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں: امریکہ
امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا میں کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے علاقائی تنظیم (سارک) کے رُکن ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
ایلس ویلز نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "گزشتہ کئی دہائیوں پر محیط ہماری شراکت داری کے باعث خطے کے ان ملکوں میں صحتِ عامہ کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کافی کام ہوا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سارک ممالک کے طبی ماہرین، سائنس اور دیگر شعبوں کے ماہرین سے تعاون پر امریکہ کو فخر ہے۔
ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک کروڑ 88 لاکھ ڈالر کے سارک فنڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک مل کر اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔
بیرون ملک محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی سے متعلق اجلاس
پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت کرونا وائرس سے نمٹنے کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ہے۔ اجلاس میں بیرون ممالک میں مقیم وطن واپسی کے منتظر پاکستانیوں کی واپسی ممکن بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔