کرونا وائرس کی عالمی وبا اور افغان پناہ گزین
جب کہ ابھی افغانستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا معاملہ کٹھائی میں پڑا ہوا ہے اور صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبدللہ کے درمیان سیاسی تنازعہ اپنی جگہ برقرار ہے، افغانستان کے سامنے پہاڑ جیسا ایک اور مسئلہ کھڑا ہے۔ اور، وہ ہے پاکستان اور ایران سے ہزاروں پناہ گزینوں کی وطن واپسی، جسے کرونا وائرس کے خوفناک پھیلاؤ نے اور گھبمیر بنا دیا ہے۔
پناہ گزینوں سے متعلق افغانستان کی وزارت کے مطابق، ڈیرھ لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین فروری کے اواخر سے ایران سے واپس آچکے ہیں۔
میڈیا کیلئے وزارت کے مشیر سید عبد الباسط انصاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پناہ گزینوں کی واپسی میں تیزی، ان میں اس خوف سے پیدا ہوگئی ہے کہ ایران علاقے میں کرونا وائرس کا مرکز بن چکا ہے، جہاں کم سے کم دو ہزار افراد اب تک لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ کہیں انھیں بھی یہ وائرس نہ لگ جائے۔ مسٹر انصاری نے بتایا کہ ہر روز تقریباً دس ہزار افغان ایران سے وطن واپس آ رہے ہیں۔
سوشل ڈسٹینسنگ کیا ہے، کیوں ضروری ہے؟
دنیا بھر میں کرونا وائرس کو روکنے کے لیے سوشل ڈسٹینسنگ یا میل جول سے پرہیز کیوں کیا جا رہا ہے؟ جانیے آفتاب بوڑکا کے اس وی لاگ میں۔
کرونا وائرس کی وبا کا زور ہے اور ہاتھ دھونے کو پانی نہیں
کرونا وائرس کی وبا سے محفوظ رہنے کیلئے جہاں گھر میں رہنا بہتر ہے، وہیں ہاتھوں کو بار بار اچھی طرح دھونا بھی ضروری ہے۔ مگر پانی ہی نہ ہو تو ہاتھ کیسے دھوئے جائیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی بعض لوگ پانی سے محروم ہیں۔
''اوہ بجلی پھر چلی گئی۔ پانی آیا یا نہیں۔ اوہو۔ پھر بھر کے لانا پڑے گا''۔ یہ جملے آپ نے عام سنے ہوں گے۔ مگر ہمارے جیسے ملکوں میں۔ امریکہ میں نہیں۔ لیکن، یقین کیجئے ہم جو کہانی بیان کرنے جا رہے ہیں یہ امریکہ کی ہی ہے۔
ایک بڑی ریاست مشی گن کے بڑے شہر ڈیٹرائٹ کی، جہاں کاریں بنتی ہیں۔ مگر وہاں بہت سے لوگ پانی سے محروم ہیں، کیونکہ وہ پانی کا اپنا بل نہیں چکا سکے۔ یقین نہ آئے تو امریکی نیٹ ورک این بی سی کی ایرن آئن ہارن کی رپورٹ دیکھ لیجئے۔
کرونا وائرس: صدر شی کی صدر ٹرمپ کو مدد کی پیشکش
چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعے کے روز صدر ٹرمپ کو بتایا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اُنہیں چین کی مدد حاصل ہو گی۔
کسی بھی ملک کی نسبت، امریکہ میں کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ نوے ہزار امریکی کرونا وائرس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ نیو یارک اور نیو اورلینز جیسے شہروں کے ہسپتال، وائرس سے متاثرہ مریضوں سے نمٹنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔
چین کے صدر شی نے ٹیلی فون کے ذریعے امریکہ کو مدد کی پیشکش کی ہے۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان کرونا وائرس سمیت مختلف موضوعات پر لفظی جنگ جاری۔
صدر ٹرمپ اور چند دیگر عہدیداروں نے وائرس کے سلسلے میں شفافیت نہ برتنے پر چین کو موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔ بعض موقعوں پر صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کو 'چائینہ وائرس' بھی کہا تھا، جس پر چین نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔