تاریخی مسجدوں کے شہر استنبول میں پہلی بار مساجد بند
ترکی کا شہر استنبول کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ملک کی کوششوں کا مرکز ہے۔ ترک حکام یہاں پابندیاں بڑھا رہے ہیں، سکولوں اور تفریحی مقامات بند کر دیے گئے ہیں اور اب نمازیوں کو مساجد آنے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ شہر کیسے اپنا طرز زندگی بدل رہا ہے، دیکھئے اس رپورٹ میں
یورپ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی، حکومتیں بے بس
دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح یورپی ممالک میں بھی کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اٹلی، اسپین اور جرمنی کے بعد اب بقیہ یوروپی ملکوں میں بھی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
لندن سے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے برطانوی ایوان بالا کے رکن لارڈ نذیر نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ یورپ کی صورت حال بگڑتی جا رہی ہے۔ خیال یہ ہے کہ جب یہ وبا ختم ہو گی تو بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہو گا جس کا اس وقت درست طور پر اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی قیادت کو ابھی سے مل بیٹھ کر یہ سوچنا ہو گا کہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور اگر کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا تو پھر دنیا کو اس وبا کے بعد بڑے پیمانے پر کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں تیزی سے یہ مرض پھیل رہا ہے جہاں وزیر اعظم سمیت بہت سے لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر وہاں آباد غیر ملکی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔
چین کے منہ موڑنے سے امریکی کسان پریشان
چین تاریخی طور پر امریکی زرعی پیداوار کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ لیکن کرونا وائرس کے باعث چین اپنے ذخائر میں ریکارڈ کمی لا رہا ہے جس کے نتیجے میں امریکی پیداوار کی خریداری میں کمی ہو رہی ہے۔ چین امریکہ تجارتی معاہدے کے باوجود کرونا وائرس نے امریکی کسانوں کے لئے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے۔
کرونا وائرس کی عالمی وبا اور افغان پناہ گزین
جب کہ ابھی افغانستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا معاملہ کٹھائی میں پڑا ہوا ہے اور صدر اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبدللہ کے درمیان سیاسی تنازعہ اپنی جگہ برقرار ہے، افغانستان کے سامنے پہاڑ جیسا ایک اور مسئلہ کھڑا ہے۔ اور، وہ ہے پاکستان اور ایران سے ہزاروں پناہ گزینوں کی وطن واپسی، جسے کرونا وائرس کے خوفناک پھیلاؤ نے اور گھبمیر بنا دیا ہے۔
پناہ گزینوں سے متعلق افغانستان کی وزارت کے مطابق، ڈیرھ لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین فروری کے اواخر سے ایران سے واپس آچکے ہیں۔
میڈیا کیلئے وزارت کے مشیر سید عبد الباسط انصاری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پناہ گزینوں کی واپسی میں تیزی، ان میں اس خوف سے پیدا ہوگئی ہے کہ ایران علاقے میں کرونا وائرس کا مرکز بن چکا ہے، جہاں کم سے کم دو ہزار افراد اب تک لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ کہیں انھیں بھی یہ وائرس نہ لگ جائے۔ مسٹر انصاری نے بتایا کہ ہر روز تقریباً دس ہزار افغان ایران سے وطن واپس آ رہے ہیں۔