وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری سے گفتگو
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ چین سے طلبہ کو واپس نہ بلانے کا سارا ملبہ ان پر گرایا گیا اور تنقید کی گئی۔ لیکن وہ فیصلہ درست ثابت ہوا ہے۔ مجھ پر تنقید وزیرِ اعظم سے قربت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ زلفی بخاری نے خود سے جڑے تنازعات کے بارے میں کیا کہا؟ دیکھیے اس انٹرویو میں۔
کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے چینی ڈاکٹروں کی ٹیم پاکستان روانہ
پاکستان میں چین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ آٹھ رکنی طبی ماہرین کی ٹیم چین سے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔ اس ٹیم کو سنکیانگ میں گرم جوشی سے رخصت کیا گیا۔
چینی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ چین کی طبی ٹیم کے پاکستان پہنچنے پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی چینی سفیر یاؤ جنگ کے ہمراہ ان کا استقبال کریں گے۔
چین کے ڈاکٹروں کی ٹیم پاکستان میں 'کووڈ 19' کے مرض خلاف احتیاطی تدابیر, تشخیص, علاج اور اس کے کنٹرول میں پاکستان کی معاونت کرے گی۔
زائرین سے متعلق الزام پر خواجہ آصف کے خلاف عدالت جاؤں گا: زلفی بخاری
پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) کا کہنا ہے کہ ایران سے زائرین کو زبردستی لانے اور تفتان قرنطینہ سے فرار کرانے کے الزام پر وہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف عدالت سے رُجوع کریں گے۔
وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں معاونِ خصوصی برائے اووسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ تفتان میں زائرین کے لیے اپنائی گئی پالیسی پر اُن کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ زائرین بے سہارا کھلے آسمان تلے بارڈر پر موجود تھے، لہذٰا اُنہیں واپس لیا گیا۔
زلفی بخاری کے بقول مختلف ائیرپورٹس اور ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ البتہ وہ پاکستانی جو بیرون ملک مستقل مقیم ہیں انہیں واپس نہیں لائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پھنسے عمرہ زائرین اور مختلف ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔
زلفی بخاری نے بتایا کہ دیگر ممالک میں سیاحت یا عارضی طور پر جانے والے پاکستانیوں کو لانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں بینکاک ایئر پورٹ پر پھنسے پاکستانیوں کو واپس لائیں گے۔ پاکستان آنے والے افراد کو 'آئسولیشن' میں رکھا جائے گا۔
کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے باعث یورپ میں گھریلو تشدد کے خدشات
یورپی ممالک میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر انگنت خاندان اپنے گھروں میں محصور ہیں جس کے سبب گھریلو تشدد میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم تنظیموں نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز بننے کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جرمن تنظیم کے مطابق بہت سے لوگوں کے لیے اُن کا گھر محفوظ جگہ نہیں ہے۔ معاشرتی تنہائی کی وجہ سے تناؤ بڑھ رہا ہے۔ لہذٰا خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
برلن سے لے کر پیرس، میڈرڈ، روم اور بریٹیسلاوا میں سرگرم خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے بھی کم و بیش ایسے ہی خدشات ظاہر کیے ہیں۔