بھارت: ریلوے کی بوگیوں میں قرنطینہ وارڈ بنائے جا رہے ہیں
رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بھارتی حکومت نے ریلوے کی ان بوگیوں کو، جو اس وقت سروس میں نہیں ہیں، آئسولیشن وارڈز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ریلوے کے ایک ترجمان نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سردست ایک مسافر کوچ کو قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر اس کی منظوری مل گئی تو ریلوے کا ہر زون ہر ہفتے 10 کوچز کو آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کرے گا۔ بھارت میں ریلوے کی 16 زون ہیں۔
ریلوے کے وزیر گوپال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ان کا محکمہ مریضوں کو صحت مند اور جراثیموں سے پاک ماحول فراہم کرے گا تاکہ وہ جلد صحت یاب ہو سکیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہر کوچ میں کتنے مریضوں کو رکھنے کی گنجائش ہو گی۔
پاکستان نے سینکڑوں ہوٹل عارضی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کر دیے
صحت عامہ کی دیکھ بھال کے ابتر نظام میں فوری بہتری لانے کے اقدام کے طور پر پاکستان نے سینکڑوں ہوٹلوں کو قرنطینہ کے عارضی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔
ناقدین نے بتایا ہے کہ یہ فوری اقدام غیر معمولی نوعیت کا ہے، جب کہ ملک کے وسائل محدود ہونے کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنے کی گنجائش کم ہے۔
پاکستان کے قریبی اتحادی، چین نے درکار اہم طبی رسد اور عملہ فراہم کیا ہے، تاکہ وبا کے اثرات میں کمی لانے میں مدد دی جا سکے۔
پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد کم از کم 1400 ہے، جب کہ 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں ایک ماہ قبل کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
پاکستانی کشمیر کی جیلوں سے قیدیوں کی رہائی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہفتے کو جیلوں میں قید 800 میں سے 600 قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم پاکستانی کشمیر کی ہائی کورٹ نے دیا تھا۔
عدالت نے قتل اور غداری کے علاوہ 10 سال تک کی سزا پانے والے قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق لگ بھگ 650 قیدیوں کو رہائی مل سکے گی۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ان قیدیوں کو دو ماہ کے لیے پیرول پر رہا کیا جائے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارتی جموں و کشمیر میں کرونا کی وبا کے تیزی سے پھیلنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سردار مسعود نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کو فوری طور پر رہا کرے۔
- By یوسف جمیل
بھارتی کشمیر میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد 40 ہو گئی
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس یا کووڈ- 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہفتے کو مزید سات افراد کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مجموعی تعداد 40 ہو گئی ہے۔
وادی میں 3500 سے زائد افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جب کہ لگ بھگ چھ ہزار افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ وائرس کے باعث بھارتی کشمیر میں اب تک ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔
وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے جموں و کشمیر میں دس دن سے لاگو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس نے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار کیے گیے افراد میں دو پیش امام بھی شامل ہیں جنہوں نے پابندی کے باوجود نماز جمعہ پڑھانے کی کوشش کی تھی۔ انتظامیہ نے 600 کے لگ بھگ نجی گاڑیاں ضبط کرنے کے علاوہ درجنوں دُکانوں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سیل کر دیا ہے۔
وادئ کشمیر اور جموں کے کئی علاقوں سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے گھروں سے باہر آنے والوں پر تشدد کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔
اس طرح کے چند واقعات کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک پولیس اہلکار کو شہریوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے پر ڈیوٹی سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔
سرینگر کے 'رینہ واری' علاقے میں واقع جواہر لال نہرو میموریل اسپتال میں قرنطینہ میں رکھے گئے افراد نے ناکافی طبی سہولیات اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس دوراں اسپتال میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قرنطینہ میں موجود 26 افراد اسپتال سے بھا گنے میں کامیاب ہو گئے۔ سرینگر کے ضلعی کمشنر شاہد اقبال چوہدری نے کہا کہ ان سب کو اسپتال واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے پر ایک خاتون ڈاکٹر کو نوکری سے نکال دیا ہے جب کہ ایک کو غفلت برتنے کے الزام میں معطل کردیا ہے۔