رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

09:33 30.3.2020

صدر ٹرمپ اپریل کے وسط میں پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے سے دستبردار

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتے کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتے کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں تیزی سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظراپریل کے وسط سے کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کے اپنے فیصلے سے دست بردار ہو گئے ہیں اور انہوں نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات میں اپریل کے اختتام تک توسیع کر دی ہے۔

صحت سے متعلق صدر ٹرمپ کے مشیر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث ایک لاکھ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے وسط میں معیشت کو معمول پر لانے کے لیے کاروباری سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔

اتوار کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتے کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بریفنگ کے موقع پر صدر ٹرمپ کے ہمراہ ان کے مشیر اور نامور کاروباری افراد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ کامیابی حاصل کرنے سے پہلے جیت کا اعلان کردینے سے بدتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ اپنے فیصلے سے متعلق مزید تفصیلات سے منگل کو آگاہ کریں گے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر وہ حکومتی ہدایات پر عمل پیرا ہوں گے تو اتنا جلدی اس بیماری کو ختم کیا جاسکے گا۔

یاد رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے 2460 افراد افراد اور ایک لاکھ 41 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔

09:15 30.3.2020

پاکستان نے سینکڑوں ہوٹل عارضی قرنطینہ مراکز میں تبدیل کر دیے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

صحت عامہ کی دیکھ بھال کے ابتر نظام میں فوری بہتری لانے کے اقدام کے طور پر پاکستان نے سینکڑوں ہوٹلوں کو قرنطینہ کے عارضی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔

ناقدین نے بتایا ہے کہ یہ فوری اقدام غیر معمولی نوعیت کا ہے، جب کہ ملک کے وسائل محدود ہونے کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنے کی گنجائش کم ہے۔

پاکستان کے قریبی اتحادی، چین نے درکار اہم طبی رسد اور عملہ فراہم کیا ہے، تاکہ وبا کے اثرات میں کمی لانے میں مدد دی جا سکے۔

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد کم از کم 1400 ہے، جب کہ 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں ایک ماہ قبل کرونا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔

مزید پڑھیے

08:53 30.3.2020

شام میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت

فائل فوٹو
فائل فوٹو

مشرقِ وسطیٰ کے ملک شام میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

شام کی وزارتِ صحت کے وزیر نے تصدیق کی ہے کہ اتوار کو اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لائی گئی خاتون دم توڑ گئی ہے جو کرونا وائرس میں مبتلا تھی۔

سرکاری طور پر خاتون کی موت کو شام میں کرونا وائرس سے ہونے والی پہلی ہلاکت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملک میں سرکاری اعداد و شمار کے برعکس متاثرہ مریضوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر میں کاروباری مراکز، اسکول، یونیورسٹیز، مساجد، پبلک ٹرانسپورٹ اور بیشتر سرکاری دفاتر بند ہیں۔

00:53 30.3.2020

امریکہ میں ایک لاکھ ہلاکتوں کا خدشہ، صحت کے اعلی سرکاری عہدے دار

متعدی امراض کے امریکی اعلی سرکاری عہدے دار ڈاکٹر انتھونی فاؤچی
متعدی امراض کے امریکی اعلی سرکاری عہدے دار ڈاکٹر انتھونی فاؤچی

متعدی امراض کے کنٹرول اور انسداد کے نگران ڈاکٹر فاؤچی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ کرونا سے ایک لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہو سکتے ہیں، جو موجودہ تعداد کا 50 گنا ہے۔

ڈاکٹر فاوچی نے نیوز چینل سی این این سے بات کرتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی وبائی مرض کرونا وائرس ایک لاکھ سے زیادہ امریکیوں کی جان لے سکتا ہے۔ یہ اندازہ مختلف ماڈلز کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک سرکاری طور پر ایک لاکھ 24 ہزار متاثرین کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو ہزار ایک سو ہے۔ جس میں تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ خاصا خوفناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے ایک ہزار افراد ایک ماہ کے دوران ہلاک ہوئے، جب کہ بقیہ ایک ہزار دو دن میں ہلاک ہوئے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG