بھارت میں سماجی دوری کے لیے درختوں پر ڈیرے
کرونا وائرس کے باعث بھارت میں شہری غربت کی وجہ سے درختوں پر سماجی دوری کے لیے رہنے پر مجبور ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں ضلع پرولیا میں ایک گاؤں ونگیدی کے رہائشی چنائے سے واپس پہنچے تھے تو انہوں نے 14 دن کے لیے سماجی دوری میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
ان افراد کا کہنا ہے کہ ان کے گھر انتہائی چھوٹے ہیں جہاں ان کو کورنٹائن (سماجی دوری) میں رہنے کے لیے علیحدہ کمرہ دستیاب نہیں۔
گاؤں کے سات افراد چنائے سے واپس پہنچے ہیں۔ جنہوں نے گاؤں پہنچنے سے قبل ڈاکٹر سے رجوع کیا تھا۔ ڈاکٹر نے ان افراد کو 14 روز کے لیے کورنٹائن میں رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
ان ساتوں افراد نے گھر میں علیحدہ کمرہ نہ ہونے کی وجہ سے درختوں پر رہنے کا فیصلہ کیا اور درختوں پر چادریں باندھ کر اس میں رہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کے 1071 کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ وبا سے 29 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سندھ میں نجی اسکولز میں ملازمین کو بروقت تنخواہ ادا کرنے کا حکم
صوبائی حکومت نے سندھ میں موجود نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں ان اداروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی بچے کے والدین سے ایک سے زائد ماہ کی فیس ایک ساتھ وصول نہ کریں۔
صوبائی وزیر سعید غنی نے ایک نوٹیفیکیشن ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔ اس اعلامیے میں اسکولز کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اساتذہ اور دیگر اسٹاف کو بروقت تنخواہ ادا کریں۔
حکومت نے نجی اسکولز کی انتظامیہ کسی کو بھی ملازمت سے برطرف نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے والے اسکولز کی رجسٹریشن بھی منسوخ کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔
- By سہیل انجم
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ، تعداد 1071 ہو گئی
بھارت میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ کر 1071 تک پہنچ گئی ہے جب کہ ہلاک شدگان کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 21 روزہ لاک ڈاون سے شہروں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدور دیہی علاقوں میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں جس کی وجہ سے لاک ڈاون کا مقصد ختم ہوتا جا رہا ہے۔
مرکزی حکومت نے سخت اقدامات کرتے ہوئے مزدوروں کے ترک سکونت روکنے کتے لیے ریاستوں کو سختی کی ہدایت کی ہے۔
ریاستی حکومتوں کو ان مزدوروں کی رہائش اور کھانے پینے کے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔
مرکزی حکومت کے حکم کی وجہ سے مختلف ریاستوں میں ہزاروں افراد جگہ جگہ پھنس کر رہ گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق ایک 38 سالہ شخص جو کہ دہلی سے مدھیہ پردیش میں اپنے گھر جا رہا تھا، کی 200 کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد آگرہ میں موت ہو گئی۔
ادھر کابینہ سیکریٹری نے اس خبر کو افواہ قرار دیا ہے کہ حکومت 21 روزہ لاک ڈاون کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
- By نوید نسیم
'سب کچھ تو بند ہے، سواری کہاں سے آئے گی'
پاکستان کے مختلف شہروں میں جاری لاک ڈاؤن سے روزانہ اجرت کمانے والے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لاہور میں رکشہ چلانے والے شاہد حیات انہی لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی آمدنی لاک ڈاؤن کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے۔ اس لاک ڈاؤن کے شاہد حیات کی زندگی پر اثرات کا مزید احوال دیکھیے نوید نسیم کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں