امریکہ میں گھروں میں قیام کے احکامات میں ایک ماہ کی توسیع
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لوگوں کے گھروں میں رہنے اور سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے جاری کردہ ہدایات کی مدت آئندہ ماہ کے آخر تک بڑھا دی ہے۔
امریکی صدر کو اپریل کے وسط سے ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے عندیے پر تنقید کا سامنا تھا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے 'گائیڈ لائنز' پر عمل در آمد کی مدت میں توسیع کا اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک اعلیٰ طبی ماہر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا سے امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد کی موت ہو سکتی ہے۔
کرونا وائرس کے دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز امریکہ میں سامنے آئے ہیں جن کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار سے زائد ہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی 2489 تک پہنچ چکی ہے۔
اتوار کو وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں کرونا وائرس سے متعلق بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کرونا وائرس کے باعث شرح اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔
بھارتی حکومت کا لاک ڈاؤن میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ
بھارت کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث ملک بھر میں 21 روز کے لیے عائد کردہ لاک ڈاؤن میں مزید توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی حکومت نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ 21 روزہ لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں ہے جب کہ لاک ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں کام سے محروم ہونے والے افراد کو اشیائے ضروریہ پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بھارتی کابینہ کے سیکرٹری راجیو گاؤبا نے مقامی نیوز ایجنسی 'اے این آئی' سے گفتگو کرتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی جن میں کہا جا رہا تھا کہ حکومت کی طرف سے عائد پابندیاں ممکنہ طور پر طویل مدت تک کے لیے ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا دورانیہ تین ہفتوں سے بڑھانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
- By ثمن خان
پنجاب یونیورسٹی میں لیبارٹری کا افتتاح، یومیہ 100 ٹیسٹ ہوں گے
کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں جامعہ پنجاب نے لیبارٹری کا آغاز کیا ہے۔
کرونا ڈائیگنوسٹک لیبارٹری کے افتتاح پر جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد کا کہنا تھا کہ کرونا کے ٹیسٹ ماہرین کی نگرانی میں سینٹر فار اپلائیڈ مالیکیولر بائیولوجی میں کیے جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ صحت کی جانب سے بھیجے گئے کرونا وائرس کے نمونوں کے ٹیسٹ لیبارٹری میں ہوں گے۔
لیبارٹری کی استعداد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فی الوقت کرونا وائرس کے یومیہ 100 ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کی لیبارٹری میں مقامی کِٹ سے کرونا وائرس کے ایک ٹیسٹ پر 800 روپے لاگت آئے گی۔
بھارت میں سماجی دوری کے لیے درختوں پر ڈیرے
کرونا وائرس کے باعث بھارت میں شہری غربت کی وجہ سے درختوں پر سماجی دوری کے لیے رہنے پر مجبور ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ٹائمز آف انڈیا' کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں ضلع پرولیا میں ایک گاؤں ونگیدی کے رہائشی چنائے سے واپس پہنچے تھے تو انہوں نے 14 دن کے لیے سماجی دوری میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
ان افراد کا کہنا ہے کہ ان کے گھر انتہائی چھوٹے ہیں جہاں ان کو کورنٹائن (سماجی دوری) میں رہنے کے لیے علیحدہ کمرہ دستیاب نہیں۔
گاؤں کے سات افراد چنائے سے واپس پہنچے ہیں۔ جنہوں نے گاؤں پہنچنے سے قبل ڈاکٹر سے رجوع کیا تھا۔ ڈاکٹر نے ان افراد کو 14 روز کے لیے کورنٹائن میں رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
ان ساتوں افراد نے گھر میں علیحدہ کمرہ نہ ہونے کی وجہ سے درختوں پر رہنے کا فیصلہ کیا اور درختوں پر چادریں باندھ کر اس میں رہ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں کرونا وائرس کے 1071 کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ وبا سے 29 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔