رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:08 31.3.2020

امریکہ کا افغانستان کے لیے امداد کا اعلان

امریکہ نے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے لیے ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

کابل میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس امداد میں سے 50 لاکھ ڈالر افغانستان کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی صحت اور بہبود کے لیے مختص ہو گی جب کہ بقیہ ایک کروڈ ڈالر افغانستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہنگامی پروگراموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق امداد رقم افغانستان میں لیبارٹریوں کی بہتری، انفیکشن سے بچاؤ، تدارک اور افغان حکومت کی تیکنیکی امور میں معاونت کے لیے ہو گی۔

افغانستان میں اب تک کرونا وائرس کے 170 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اس وبا کی وجہ سے چار اموات ہو چکی ہیں۔

04:41 31.3.2020

ریاست ورجینیا میں لوگوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت

رالف نارتھم، گورنر ورجینیا
رالف نارتھم، گورنر ورجینیا

ورجینیا کے گورنر نے ریاست کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں، دوائیاں اور علاج، ورزش کرنے اور بہت ضروری کاموں کے سوا باہر نہ نکلیں اور گھروں پر ہی رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقے پر عمل کرنے سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گورنر رالٖف نورتھم نے اس وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں ' گھر پر رہیں' کا نیا حکم جاری کیا ہے۔

انہوں نے سمندری تفریحی گاہوں اور پارکوں پر ہجوموں کو روکنے کا بھی حکم دیا ہے جہاں اختتام ہفتہ لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹی ہو جاتی ہے۔

گورنر نے رچمنڈ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آپ اس وقت تک گھر سے باہر نہ نکلیں جب تک بہت ضروری نہ ہو۔ آپ صرف ایک چیز کی خرید کے لیے دکان پر نہ جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدایت پہلے ایک تجویز تھی لیکن اب کی حیثیت ایک حکم کا درجہ رکھتی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی اور ریاست میری لینڈ نے بھی گھر پر رہنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی مین اس حکم کا اطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔

ورجینا میں پیر کی شام تک کرونا انفکشن میں مبتلا افراد کی تعداد 1020 اور ہلاکتیں بڑھ کر 25 ہو گئی تھیں۔

02:44 31.3.2020

احتیاط نہ کی تو کرونا انفکشن بہت مہلک ثابت ہوگا، ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکیوں کو سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطوں پر عمل کرنا ہوگا اور ایسا نہ ہوا تو اموات بائیس لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ کرونا وائرس ایک خوفناک عذاب ہے۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے فاکس اینڈ فرینڈز شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس شرح میں صرف اسی صورت میں کمی آ سکتی ہے جب لوگ سماجی فاصلے کو قائم رکھیں اور دس افراد سے زیادہ کا اجتماع نہ ہو۔

انہوں نے کہا اگر ہم کوئی اقدام نہ کرتے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کرسکتی تھی۔ ہم اموات کی اس ممکنہ تعداد کو کم کرنے لیے کوشاں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کی سب سے زیادہ ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، اسی لیے کیسیز کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ میں مرنے والوں کی تعداد بہت سے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ یہاں یہ شرح ایک اعشاریہ سات فیصد ہے۔

01:49 31.3.2020

پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا وائرس کے خلاف سرگرم

پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے آن لائن کنسورشیم کویڈ 19 ایجوکیشن پروگرام کے ترجمان اور رفاہ یونیورسٹی اسلام آباد کے فیکلیٹی ممبر کاشف ظہیر کمبوہ نے کہا ہے کہ پاکستانی یونیورسٹیاں کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یونیورسٹی آف سیالکوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ریحان یونس نے وی او اے کو بتایا کہ اس وقت یہ کنسورشیم یونیورسٹیز کے مختلف سائنسدانوں، ریسرچرز اور پروفیشنل پالیسی لابنگ کرنے والے افراد پر مشتمل ایک مضبوط گروپ بن چکا ہے جو خاموش سپاہیوں کی طرح دن میں 18 گھنٹے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنسورشیم میں رفاہ انسٹیٹیوٹ آف پبلک پالیسی، رفاہ یونیورسٹی، قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف بلوچستان، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، پیپلز یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز، نواب شاہ اور دیگر اداروں کے سینئر سائنسدان، ڈاکٹرز اور فیکلٹی ممبران شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا گروپ مختلف مقامات پر کرونا کے علاج میں مصروف ڈاکٹروں کو منسلک کرنے کے لیے اینڈروئیڈ ایپ تیار کر چکا ہے جس کے ذریعے تمام ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ معلومات اور اپنے تجربات شیئر کر سکیں گے۔ یہ ایپ ایک دو روز میں فعال ہو جائے گا۔

کاشف ظہیر کمبوہ نے بتایا کہ یونیورسٹیوں کے اس آن لائن گروپ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم وینٹی لیٹرز کے قابل عمل ڈیزائن تیار کر چکی ہے جنہیں مقامی سطح پر کم لاگت سے بنایا جا سکتا ہے۔ سیالکوٹ میں جراحی کے آلات تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی اس پراجیکٹ پر سرمایہ کاری کے لئے تیار ہوگئی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG