- By سدرہ ڈار
لاک ڈاؤن میں علاج کی مفت آن لائن سہولت دستیاب
پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران ایک اہم مسئلہ بیماری کے لیے معالجین تک رسائی کا نہ ہونا بھی ہے۔اس سلسلے میں ٹیلی میڈیسن کا طریقہؑ کار خاصا کار آمد ثابت ہو رہا ہے۔
'صحت کہانی' کے نام سے کراچی سے ملک کے بہت سے شہروں میں کام کرنے والا ٹیلی میڈیسن ادارہ اس وقت کرونا وائرس کے پیش نظر اپنی موبائل ایپلی کیشن کو صارفین کے لیے مفت فراہم کر رہا ہے جس میں خواتین ڈاکٹرز کی مدد سے ان مریضوں کا علاج یا کاوؑنسلنگ کی جا رہی ہے جنھیں اس کی اشد ضرورت ہے۔
ڈاکٹر سارہ سعید 'صحت کہانی' کی بانی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ ادارہ دو طریقوں سے ملک میں کام کر رہا ہے۔ پہلے طریقہ کار کے تحت پسماندہ علاقوں میں ان کے کئی کلینکس ہیں جہاں ایک تربیت یافتہ نرس موجود ہوتی ہے جو وہاں آنے والے مریضوں کو آن لائن ڈاکٹر کی مدد سے علاج کی آسانی فراہم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
دوسرا طریقہؑ کار موبائل اپیلی کیشن ہے جس کی مدد سے مریض 24 گھنٹے کسی بھی ڈاکٹر سے آڈیو یا ویڈیو لنک کی مدد سے رابطے میں آسکتا ہے۔
امریکہ کا افغانستان کے لیے امداد کا اعلان
امریکہ نے کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے افغانستان کے لیے ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
کابل میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق اس امداد میں سے 50 لاکھ ڈالر افغانستان کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی صحت اور بہبود کے لیے مختص ہو گی جب کہ بقیہ ایک کروڈ ڈالر افغانستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ہنگامی پروگراموں کے لیے مختص کی گئی ہے۔
بیان کے مطابق امداد رقم افغانستان میں لیبارٹریوں کی بہتری، انفیکشن سے بچاؤ، تدارک اور افغان حکومت کی تیکنیکی امور میں معاونت کے لیے ہو گی۔
افغانستان میں اب تک کرونا وائرس کے 170 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور اس وبا کی وجہ سے چار اموات ہو چکی ہیں۔
ریاست ورجینیا میں لوگوں کو گھر سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت
ورجینیا کے گورنر نے ریاست کے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھانے پینے کی چیزیں، دوائیاں اور علاج، ورزش کرنے اور بہت ضروری کاموں کے سوا باہر نہ نکلیں اور گھروں پر ہی رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طریقے پر عمل کرنے سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
گورنر رالٖف نورتھم نے اس وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں ' گھر پر رہیں' کا نیا حکم جاری کیا ہے۔
انہوں نے سمندری تفریحی گاہوں اور پارکوں پر ہجوموں کو روکنے کا بھی حکم دیا ہے جہاں اختتام ہفتہ لوگوں کی بڑی تعداد اکھٹی ہو جاتی ہے۔
گورنر نے رچمنڈ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آپ اس وقت تک گھر سے باہر نہ نکلیں جب تک بہت ضروری نہ ہو۔ آپ صرف ایک چیز کی خرید کے لیے دکان پر نہ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ہدایت پہلے ایک تجویز تھی لیکن اب کی حیثیت ایک حکم کا درجہ رکھتی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی اور ریاست میری لینڈ نے بھی گھر پر رہنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی مین اس حکم کا اطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔
ورجینا میں پیر کی شام تک کرونا انفکشن میں مبتلا افراد کی تعداد 1020 اور ہلاکتیں بڑھ کر 25 ہو گئی تھیں۔
احتیاط نہ کی تو کرونا انفکشن بہت مہلک ثابت ہوگا، ٹرمپ
صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکیوں کو سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطوں پر عمل کرنا ہوگا اور ایسا نہ ہوا تو اموات بائیس لاکھ سے زیادہ ہوسکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ کرونا وائرس ایک خوفناک عذاب ہے۔ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے اور اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس اینڈ فرینڈز شو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس شرح میں صرف اسی صورت میں کمی آ سکتی ہے جب لوگ سماجی فاصلے کو قائم رکھیں اور دس افراد سے زیادہ کا اجتماع نہ ہو۔
انہوں نے کہا اگر ہم کوئی اقدام نہ کرتے تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کرسکتی تھی۔ ہم اموات کی اس ممکنہ تعداد کو کم کرنے لیے کوشاں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کی سب سے زیادہ ٹیسٹنگ ہو رہی ہے، اسی لیے کیسیز کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکہ میں مرنے والوں کی تعداد بہت سے ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ یہاں یہ شرح ایک اعشاریہ سات فیصد ہے۔