کروناوائرس کی وبا اور راشن کا حصول
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے امریکی ریاست ورجنیا میں بیروزگار لوگوں کی راشن کے حصول کے لئے لمبی قطاریں لگ گئیں۔
امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی کے نوجوانوں نے ہفتہ وار مفت راشن تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جہاں سیکڑوں لوگ یہ راشن وصول کرنے پہنچے، جبکہ درجنوں لوگوں نے ضرورت مندوں کو ان کے گھروں پر راشن پہنچانے کے لئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔
گاڑیوں کی لمبی قطاریں ان سفید پوش لوگوں کی تھیں جو لاک ڈاون کی وجہ سے معمول کی آمدن سے محروم ہوگئے ہیں، ان کے لئے نہ صرف گھروں کا کرایہ یا مارگیج دینا مشکل ہوگیا ہے، بلکہ ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
مفت راشن فراہم کرنے کا سلسلہ کمیونٹی کے مخیر تاجروں اور ہول سیل کا کاروبار کرنے والوں کی جانب سے عطیہ کئے گئے راشن کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے۔ ہفتے بھر کے راشن میں چاول، تیل، ڈبل روٹی، گھی، دال، صابن اور دیگر اشیا شامل ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا اور چینی معیشت
عالمی اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا چین اور خطے کے ملکوں کی اقتصادی پیداوار پر گہرے منفی اثرات ڈالے گی۔
عالمی بنک نے پیر کو ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرونا کی وبا چین اور ایسٹ ایشیا پیسفک خطے کے ملکوں کی اقتصادی پیداوار پر گہرے منفی اثرات ڈالے گی اور مشرقی ایشیا بحر الکاہل کے ان ملکوں میں اس سال شرح نمو دو اعشاریہ ایک فیصد ہوسکتی ہے، جبکہ دو ہزار انیس میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کرونا کی وبا دو ہزار اکیس تک چلتی ہے تو پھر یہ شرح نمو اعشاریہ پانچ فیصد تک گر جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق، چین کی شرح نمو بھی گزشتہ سال کی چھہ اعشاریہ ایک فیصد کے مقابلے میں اس سال گر کر دو اعشاریہ تین فیصد تک آ جائے گی اور اگر وبائی صورت حال مزید بگڑی تو یہ شرح نمو صفر اعشاریہ ایک تک گر سکتی ہے۔
کرونا وائرس ٹورازم کو بھی نگل گیا
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل نے خبردار کیا ہے کہ COVID-19 کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں سفر اور سیاحت کی صنعت کو بے حد نقصان پہنچایا ہے اور اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں پچاس ملین یا پانچ کروڑ ملازمتوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ توقع یہ ہے کہ ایشیا اس وبا سے بدترین انداز میں متاثر ہو گا۔ جب یہ وبا ختم ہو گی تو اس کے بعد سفر اور سیاحت کی صنعت کو بحال ہونے میں دس ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
سفر اور سیاحت کی صنعت عالمی اجتماعی پیداوار کا دس فیصد ہے۔ ہوٹل ہوں یا ائرلائینز۔ یا پھر کروز ٹریول، یہ چند ایسی مثالیں ہیں جنہیں فوری طور پر انتہائی نقصان کا سامنا ہے۔ پھر بڑے بڑے ادارے اور کمپنیاں کاروباری دوروں، کانفرنسوں اور پبلک ایونٹس کو منسوخ کر رہی ہیں جس کی وجہ سے سفر اور سیاحت کی آمدن کو بڑا دھچکہ لگا ہے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اندازے کے مطابق، عالمی سطح پر ایئر ٹرانسپورٹ کی آمدن میں اس سال پانچ فیصد کمی ہوگی یعنی ڈالروں میں یہ نقصان 29.3 ارب ڈالر رہے گا۔
کرونا وائرس اور حزب اللہ کے سیاسی مقاصد
لبنان میں سرگرم سیاسی کارکنوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حزب اللہ کرونا وائرس کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس مقصد کے لئے 15 مارچ کو اعلان کی جانے والی ہنگامی حالت کے تحت شہریوں پر سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
حکومت کی طرف سے ہنگامی حالت کے اعلان کو سیکورٹی پلان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مختلف حلقے کہتے ہیں کہ حکومت اس کے تحت اپنے ان مخالفین کو پابند سلاسل کرنا چاہتی ہے جو اکتوبر میں مظاہروں میں شامل تھے۔
لبنان میں کرونا وائرس کے کم سے کم 333 کیس سامنے آ چکے ہیں اور ملک میں خاص کر دارالحکومت بیروت کے اندر اس تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر سرگرم کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ ایمرجنسی کے قوانین کے تحت سخت اقدامات کی بجائے صحت عامہ کی جانب توجہ دی جائے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے لبنانی حکومت نے سرکاری اداروں، نجی کاروبار، بندرگاہوں اور سرحدوں کو بند کر دیا ہے۔ تاہم، مخالفین کا اعتراض ہے کہ فوج اور پولیس کو غیر معمولی اختیارات دیے دیئے گئے ہیں اور عام لوگوں کو بہتر متبادل کی بجائے مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے۔