سیاسی جلسے منسوخ لیکن صدارتی انتخاب وقت پر
کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں سیاسی سرگرمیاں ماند ہیں۔ تاہم، دونوں جماعتوں کے ممکنہ امیدوار الکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں اور کسی نہ کسی طور اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے امیدوار جو بائیڈن الکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر تنقید کا موقع نکال ہی لیتے ہیں؛ اور یوں، ان کی انتخابی مہم جاری ہے۔ پیر کو صدر ٹرمپ نے فاکس اینڈ فرینڈز کے پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ "اگر بائیڈں صدر ہوتے تو ان کو کرونا وائرس کے بارے کچھ سمجھ میں بھی نہیں آتا۔‘‘جو بائیڈن نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے لیڈر باآواز بلند سوچنے کے بجائے سنجیدگی اور گہرائی سے کرونا وائرس کے خلاف حکمت عملی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس ٹرمپ کی غلطی نہیں مگر اس کے خلاف سست رو پالیسی اور رد عمل ٹرمپ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
جو بائیڈن نے اپنے گھر میں عارضی اسٹوڈیو بنایا ہے جہاں سے وہ ٹاون ہال جلسے اور ٹی وی انٹرویو دیتے ہیں۔ وہ جولائی میں اپنی پارٹی کی حتمی نامزدگی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں؛ کیوں کہ ابھی تک ان کے واحد حریف برنی سینڈرز میدان میں ہیں
پاکستان میں آن لائن کلاسز بند کرنے کا مطالبہ
پاکستان میں بعض طلبا تنظیمیں آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کا اعلان کررہی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس بحران کی وجہ سے طلبا کو سمسٹر بریک دے۔ ترقی پسند طلبا کی تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹیو نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل سے آن لائن کلاسز کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے تنظیم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سلمان سکندر نے کہا کہ ملک میں صرف 36 فیصد افراد کے پاس تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ ہے۔ ان میں بھی کئی علاقوں میں سگنل بہت کم آتے ہیں۔ جو لوگ دوردراز کے علاقوں میں آباد ہیں، ان کے لیے آن لائن کلاسز لینا ممکن نہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالب علم رہنما محسن ابدالی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی سہولتوں کے فقدان کے علاوہ اکثر اساتذہ اور طلبا آن لائن کلاسز کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے تعلیم کے حصول میں دشواری ہورہی ہے۔ بہت سے اداروں میں طلبا نے لاکھوں روپے فیس دی ہے۔ ویڈیو لنک پر غیر تربیت یافتہ اساتذہ سے ناقص معیار کے لیکچر دلوانا طلبا کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ بہت سے طلبا کی طرف سے آن لائن کلاسز کے غیر معیاری ہونے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے اور معیار کو بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہر روز پہلے سے 10 فیصد زیادہ ہلاکتیں
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کسی ملک کو کامیابی حاصل نہیں ہورہی اور روزانہ ہزاروں نئے کیسز سامنے آرہے ہیں جبکہ اموات کی تعداد بھی تشویش ناک حد تک بڑھتی جارہی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 202 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں پہلی بار 70 ہزار مریضوں کی تصدیق اور پہلی بار 4 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ہر روز پہلے سے 10 فیصد زیادہ اموات ہورہی ہیں۔
اٹلی میں منگل کو مزید 837 افراد کی موت ہوئی اور 4053 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ اسپین میں مزید 748 اموات ہوئیں اور 7967 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ امریکہ میں مزید 639 اموات ہوئیں اور 21482 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ فرانس میں مزید 499 اموات ہوئیں اور 7578 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔
جرمنی میں مزید 129 اموات ہوئیں اور 4805 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ برطانیہ میں مزید 381 اموات ہوئیں اور 3009 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ نیدرلینڈز میں مزید 175 اموات ہوئیں اور 845 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ بیلجیم میں مزید 192 اموات ہوئیں اور 876 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔
ایران میں مزید 141 اموات ہوئیں اور 3110 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔ چین میں مزید 5 اموات ہوئیں اور 79 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔
کروناوائرس کی وبا اور راشن کا حصول
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے امریکی ریاست ورجنیا میں بیروزگار لوگوں کی راشن کے حصول کے لئے لمبی قطاریں لگ گئیں۔
امریکہ کی پاکستانی کمیونٹی کے نوجوانوں نے ہفتہ وار مفت راشن تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے، جہاں سیکڑوں لوگ یہ راشن وصول کرنے پہنچے، جبکہ درجنوں لوگوں نے ضرورت مندوں کو ان کے گھروں پر راشن پہنچانے کے لئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کیں۔
گاڑیوں کی لمبی قطاریں ان سفید پوش لوگوں کی تھیں جو لاک ڈاون کی وجہ سے معمول کی آمدن سے محروم ہوگئے ہیں، ان کے لئے نہ صرف گھروں کا کرایہ یا مارگیج دینا مشکل ہوگیا ہے، بلکہ ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
مفت راشن فراہم کرنے کا سلسلہ کمیونٹی کے مخیر تاجروں اور ہول سیل کا کاروبار کرنے والوں کی جانب سے عطیہ کئے گئے راشن کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے۔ ہفتے بھر کے راشن میں چاول، تیل، ڈبل روٹی، گھی، دال، صابن اور دیگر اشیا شامل ہیں۔