رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:38 1.4.2020

جیلیں خالی کرنے سے کرونا وائرس کا خاتمہ نہیں ہوگا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث قیدیوں کی رہائی کے خلاف اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ جیلیں خالی کرنے سے کرونا وائرس کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ کراچی میں ملزمان کی ضمانت ہوتے ہی ڈکیتیاں شروع ہو گئی ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملزمان کو پکڑنا پہلے ہی ملک میں مشکل کام ہے۔ پولیس کرونا کی ایمرجنسی میں مصروف ہے۔ ان حالات میں جرائم پیشہ افراد کو کیسے سڑکوں پر نکلنے دیں؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیلوں میں وائرس پھیلا تو الزام سپریم کورٹ پر آئے گا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے قانون کو دیکھنا ہے۔ کسی الزام کی پرواہ نہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں چھ اپریل تک تفصیلی جوابات جمع کر آئیں۔ کیس کی آئندہ سماعت چھ اپریل کو ہوگی۔

17:31 1.4.2020

شاہ محمود قریشی کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے پیدا ہونے والے عالمi چیلنجز سے نمٹنے کے حوالے سے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ٹیلی فون پر رابطے کے دوران وزیر خارجہ نے سعودی ہم منصب شہرادہ فیصل کو کرونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستانی کوششوں سے آگاہ کیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے سعودی وزیر خارجہ کو بتایا کہ کرونا وائرس سے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کے بقول وزیر اعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں آسانی دینے کی تجویز دی ہے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل سے انسانی جانوں کو بچا سکیں۔

پاکستان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ موجود عالمی چیلنج کے پیش نظر محدود معاشی وسائل کے حامل ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی تجویز اور ان ممالک کی اقتصادی معاونت پر دنیا کے امیر ترین ممالک کی تنظیم جی- 20 کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا ہے۔

یادر ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں حالیہ دنوں میں جی -20 ممالک کے عہدیداران کا وڈیو لنک اجلاس ہوا تھا۔

17:24 1.4.2020

عازمین فی الحال حج کی منصوبہ بندی نہ کریں: سعودی عرب

سعودی عرب نے دنیا بھر میں عازمین پر زور دیا ہے کہ وہ فی الحال حج کی ادائیگی کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ کریں۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا کے سبب سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے رواں برس حج ادا کرنے کے خواہش مند 20 لاکھ مسلمانوں کو تجویز دی کہ وہ یہ مذہبی فریضہ ادا کرنے کا ارادہ فی الحال مؤخر کر دیں۔

سعودی عہدیدار کی مسلمانوں کو تجویز دینے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کرونا کی وبا کے سبب فریضہ حج کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب کے وزیر برائے حج و عمرہ محمد صالح بن طاہر بنتن نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو تمام مسلمانوں اور اپنے شہریوں کی صحت عزیز ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ حج کے حوالے سے سعودی عرب میں اس مذہبی فریضے کے انتظامات کرنے والوں (یعنی حج آپریٹرز) سے فی الحال کسی بھی قسم کا معاہدہ نہ کریں۔

وزیر برائے حج و عمرہ نے مسجد الحرام میں ٹی وی سے گفتگو کی۔ جس وقت وہ گفتگو کر رہے تھے اس وقت مسجد الحرام میں لوگ نہیں تھے جہاں عمومی طور پر ہزاروں افراد ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

محمد صالح بن طاہر بنتن نے کہا کہ سعودی شاہی حکومت مکہ میں 1200 ایسے زائرین کا خیال رکھ رہی ہے جو عالمی سطح پر لاک ڈاؤن کے باعث اپنے ملکوں کو واپس نہیں لوٹ سکے تھے۔

مزید جانیے

16:43 1.4.2020

بھارت میں کیسز کی تعداد 1637 ہو گئی، 38 افراد ہلاک

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بستی حضرت نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز میں موجود افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک بھر میں کیسز کی تعداد 1637 ہو گئی ہے جب کہ 38 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق مرکز نظام الدین میں 13 سے 15 مارچ تک اجتماع میں شریک تمل ناڈو کے 50 افراد،دہلی کے 24،تلنگانہ کے 21،آندھرا پردیش کے 21، انڈمان نکوبار کے 10 جب کہ آسام اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ایک فرد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق 824 غیر ملکی باشندوں نے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے۔

ان تمام کی تفصیل دہلی پولیس کے سربراہ کو فراہم کر دی گئی ہے۔

تبلیغی جماعت کے اس اجتماع میں انڈونیشیا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، ایران، گھانا، ماریشس، تنزانیہ، برونائی دارالسلام، تھائی لینڈ، کرغزستان، جنوبی افریقہ، برطانیہ، امریکہ، فرانس، فلپائن، سری لنکا، نیپال اور کینیا کے باشندے شریک تھے جب کہ بھارت کی مختلف ریاستوں کے لوگوں نے بھی شرکت کی تھی۔

دیگر ممالک کے 250 باشندوں کو تو قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔ ان میں سے 20 غیر ملکیوں میں وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں ایک 68 سالہ فلپائنی بھی شامل تھا جس کی ممبئی کے ایک اسپتال میں موت ہوگئی تھی۔

اس کے علاوہ ملائیشیا کی ایک 22 سالہ خاتون بھی وائرس سے متاثر ہیں۔ وہ اس وقت جھارکھنڈ میں زیر علاج ہیں۔

رپورٹس کے مطابق تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کے بعد بہت سے افراد ملک کے مختلف علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔ حکام اب ان تمام افراد کی تلاش میں مصروف ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG