رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

03:41 2.4.2020

داعش کے قیدیوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ

شام میں کرد عہدیداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کرونا وائرس داعش کے ہزاروں قیدیوں میں جو شمال مشرقی شام میں قید ہیں پھیل گیا تو اس سے ہولناک تباہی ہوگی۔

ایسے میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلتی جا رہی ہے، ان عہدیداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مہلک بیماری نے داعش کے ہزاروں قیدیوں پر، جو شمال مشرقی شام میں قید ہیں، حملہ کیا تو اس سے ہولناک تباہی پھیل جائے گی۔

شامی ڈیموکرٹیک فورسز، یعنی ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس خطرے کا قوی امکان ہے اس لئے کہ مقامی حکام کے پاس اس وائرس کے حملے کو روکنے کے لئے درکار وسائل موجود نہیں ہیں۔ ڈیموکریٹک فورسز کردوں کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ہے جو شام کے اندر داعش کے خلاف لڑنے میں امریکہ کا ایک بڑا شریک کار رہا ہے۔

اس گروپ کے سنیئر عہدیدار کا کہنا ہے اگر کرونا وائرس داعش کے قید خانوں تک پہنچ گیا تو اسے قابو میں لانا مشکل ہوجائے گا۔ اس وقت 'ایس ڈی ایف' کی قید میں داعش کے کم از کم دس ہزار جنگجو موجود ہیں جن میں سے دو ہزار غیر ملکی ہیں۔

کرد فوجی حکام نے بین الااقوامی برداری سے اپیل کی ہے کہ شام میں داعش کے قیدیوں کا مستقل حل تلاش کرنے میں مدد کی جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عالمی برداری سے کہا ہے کہ ان قیدیوں کے لئے انصاف کے بین الااقوامی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔

03:37 2.4.2020

خلیجی ملکوں میں غیر ملکی کارکن خطرے میں

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ملکوں میں خدمات انجام دینے والے غیر ملکی کارکنوں کی صحت و سلامتی خطرے میں ہے۔ ان میں دس فی صد کارکنوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال سے ہے۔

وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ڈیل گیولک نے عمان سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خلیجی ملکوں میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کی صحت، سلامتی اور معاشی حالات پر عدم اطمینان اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان ملکوں میں دس فیصد کارکنوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال سے ہے۔ جن ملکوں میں یہ کام کر رہے ہیں ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اومان شامل ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی حیا ضیاالدین کہتی ہیں کہ یہ غیر ملکی انتہائی تنگ اور پرہجوم جگہوں میں رہ رہے ہیں، انھیں مہیا طبی سہولتیں بھی نا کافی ہیں، خوراک بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کرونا وبا کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان ملکوں میں آجرون کو بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے اور وہ اپنے ملازمین کا استحصال کر ہے ہیں۔

ایک طرف ان کی اجرتیں روکی جارہی ہیں تو دوسری طرف صحت خطرے میں ہے۔ بعض کمپنیاں بند ہوگئی ہیں، اس طرح وہاں کام کرنے والوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعض کمنیاں اپنے ملازمین کو واپس ان کے وطن بھیجنا چاہتی ہیں مگر نیپال جیسے ملک کے کارکن واپس نہیں جا سکتے، کیوں کہ داخلے کے تمام راستے بند ہیں۔

03:34 2.4.2020

وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈھائی کھرب ڈالر کی ضرورت

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ڈھائی کھرب امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جو اس بحران سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری بہت سے ترقی پزیر ممالک کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ان کی پائیدار ترقی کی جانب سفر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان میں پاکستان کے علاوہ افریقہ کے بعض ممالک، لاطینی امریکہ، جنوبی کوریا، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتیں شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق، ان ممالک میں دنیا کی آبادی کا دو تہائی آباد ہے جو کرونا وائرس کی وبا کے باعث ایسے معاشی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس لئے ایسے ممالک کی مدد کے لئے ڈھائی کھرب امریکی ڈالر کے پیکیج کی ضروت ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معیشت کو کرونا وائرس کی وبا سے پیدا شدہ صورتحال میں پانچ ارب ڈالر تک کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

03:29 2.4.2020

کرونا وائرس کی وجہ سے ومبلڈن ٹینس منسوخ

اس سال کے ٹینس گرینڈ سلیم مقابلے ومبلڈن کو کرونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ 29 جون سے 12 جولائی تک کھیلا جانا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ومبلڈن کو منسوخ کیا گیا ہے۔

ومبلڈن کی انتظامیہ کے پاس اپریل کے آخر تک صورتحال دیکھ کر فیصلہ کرنے کا وقت تھا لیکن اس نے آج ہی اعلان کردیا۔ ومبلڈن کے منسوخ ہونے سے منتظمین کو 20 کروڑ پاؤنڈ کا نقصان ہوگا جو انشورنس سے پورا کیا جائے گا۔

آل انگلینڈ لان ٹینس کلب کے چئیرمین ایان ہیوٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن ہمیں عوام اور ٹینس سے محبت کرنے والوں کی صحت کی خاطر ایسا کرنا پڑرہا ہے۔

برطانیہ میں بدھ تک کرونا وائرس کے لگ بھگ 30 ہزار کیس سامنے آچکے تھے جبکہ 2300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ساڑھے پانچ سو اموات ایک دن میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG