داعش کے قیدیوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ
شام میں کرد عہدیداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کرونا وائرس داعش کے ہزاروں قیدیوں میں جو شمال مشرقی شام میں قید ہیں پھیل گیا تو اس سے ہولناک تباہی ہوگی۔
ایسے میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلتی جا رہی ہے، ان عہدیداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مہلک بیماری نے داعش کے ہزاروں قیدیوں پر، جو شمال مشرقی شام میں قید ہیں، حملہ کیا تو اس سے ہولناک تباہی پھیل جائے گی۔
شامی ڈیموکرٹیک فورسز، یعنی ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس خطرے کا قوی امکان ہے اس لئے کہ مقامی حکام کے پاس اس وائرس کے حملے کو روکنے کے لئے درکار وسائل موجود نہیں ہیں۔ ڈیموکریٹک فورسز کردوں کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ہے جو شام کے اندر داعش کے خلاف لڑنے میں امریکہ کا ایک بڑا شریک کار رہا ہے۔
اس گروپ کے سنیئر عہدیدار کا کہنا ہے اگر کرونا وائرس داعش کے قید خانوں تک پہنچ گیا تو اسے قابو میں لانا مشکل ہوجائے گا۔ اس وقت 'ایس ڈی ایف' کی قید میں داعش کے کم از کم دس ہزار جنگجو موجود ہیں جن میں سے دو ہزار غیر ملکی ہیں۔
کرد فوجی حکام نے بین الااقوامی برداری سے اپیل کی ہے کہ شام میں داعش کے قیدیوں کا مستقل حل تلاش کرنے میں مدد کی جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عالمی برداری سے کہا ہے کہ ان قیدیوں کے لئے انصاف کے بین الااقوامی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔
خلیجی ملکوں میں غیر ملکی کارکن خطرے میں
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی ملکوں میں خدمات انجام دینے والے غیر ملکی کارکنوں کی صحت و سلامتی خطرے میں ہے۔ ان میں دس فی صد کارکنوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال سے ہے۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ڈیل گیولک نے عمان سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خلیجی ملکوں میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کی صحت، سلامتی اور معاشی حالات پر عدم اطمینان اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان ملکوں میں دس فیصد کارکنوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال سے ہے۔ جن ملکوں میں یہ کام کر رہے ہیں ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور اومان شامل ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی حیا ضیاالدین کہتی ہیں کہ یہ غیر ملکی انتہائی تنگ اور پرہجوم جگہوں میں رہ رہے ہیں، انھیں مہیا طبی سہولتیں بھی نا کافی ہیں، خوراک بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔
ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہاں کرونا وبا کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان ملکوں میں آجرون کو بہت زیادہ تحفظ حاصل ہے اور وہ اپنے ملازمین کا استحصال کر ہے ہیں۔
ایک طرف ان کی اجرتیں روکی جارہی ہیں تو دوسری طرف صحت خطرے میں ہے۔ بعض کمپنیاں بند ہوگئی ہیں، اس طرح وہاں کام کرنے والوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض کمنیاں اپنے ملازمین کو واپس ان کے وطن بھیجنا چاہتی ہیں مگر نیپال جیسے ملک کے کارکن واپس نہیں جا سکتے، کیوں کہ داخلے کے تمام راستے بند ہیں۔
وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈھائی کھرب ڈالر کی ضرورت
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ڈھائی کھرب امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جو اس بحران سے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری بہت سے ترقی پزیر ممالک کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اور ان کی پائیدار ترقی کی جانب سفر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان میں پاکستان کے علاوہ افریقہ کے بعض ممالک، لاطینی امریکہ، جنوبی کوریا، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتیں شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق، ان ممالک میں دنیا کی آبادی کا دو تہائی آباد ہے جو کرونا وائرس کی وبا کے باعث ایسے معاشی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ اس لئے ایسے ممالک کی مدد کے لئے ڈھائی کھرب امریکی ڈالر کے پیکیج کی ضروت ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی معیشت کو کرونا وائرس کی وبا سے پیدا شدہ صورتحال میں پانچ ارب ڈالر تک کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے ومبلڈن ٹینس منسوخ
اس سال کے ٹینس گرینڈ سلیم مقابلے ومبلڈن کو کرونا وائرس کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ 29 جون سے 12 جولائی تک کھیلا جانا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ومبلڈن کو منسوخ کیا گیا ہے۔
ومبلڈن کی انتظامیہ کے پاس اپریل کے آخر تک صورتحال دیکھ کر فیصلہ کرنے کا وقت تھا لیکن اس نے آج ہی اعلان کردیا۔ ومبلڈن کے منسوخ ہونے سے منتظمین کو 20 کروڑ پاؤنڈ کا نقصان ہوگا جو انشورنس سے پورا کیا جائے گا۔
آل انگلینڈ لان ٹینس کلب کے چئیرمین ایان ہیوٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا لیکن ہمیں عوام اور ٹینس سے محبت کرنے والوں کی صحت کی خاطر ایسا کرنا پڑرہا ہے۔
برطانیہ میں بدھ تک کرونا وائرس کے لگ بھگ 30 ہزار کیس سامنے آچکے تھے جبکہ 2300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ساڑھے پانچ سو اموات ایک دن میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔