کرونا وائرس سے امریکہ میں ایک دن میں ایک ہزار اموات
کرونا وائرس سے امریکہ میں ایک دن میں ایک ہزار اموات ہوگئی ہیں۔ ان میں صرف نیویارک کے 500 مریض شامل ہیں۔ اس کے بعد امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار تک پہنچ گئی۔ ملک میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 14 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔
اس سے پہلے منگل کو امریکہ میں 912 اموات ہوئی تھیں۔ 50 میں سے 46 ریاستوں میں کم از کم ایک ہلاکت ضرور ہوئی۔ نیویارک میں 375 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس ریاست میں اب تک 75 ہزار سے زیادہ کیس سامنے آچکے ہیں اور 2200 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 47 ہزار جبکہ تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد سوا 9 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ امریکہ اور اٹلی کے بعد اسپین میں بھی مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ بدھ کو پہلی بار 5 ملکوں میں 500 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق دنیا کے 203 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے 75 ہزار سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 80 ملکوں میں مجموعی طور پر 4800 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں۔ اب تک 140 ملکوں میں کم از ایک ہلاکت ہوچکی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جن دیگر چار ملکوں میں 500 سے زیادہ اموات ہوئیں ان میں اسپین میں 923، اٹلی میں 727، برطانیہ میں 563 اور فرانس میں 509 ہلاکتیں شامل ہیں۔ برطانیہ میں بدھ کو پہلی بار 500 سے زیادہ مریضوں کا انتقال ہوا۔
مزید چار ملکوں میں 100 سے زیادہ افراد جان سے گئے جن میں جرمنی میں 156، ایران میں 138، نیدرلینڈ میں 134 اور بیلجیم میں 123 اموات ہوئیں۔ ترکی، سوئزرلینڈ اور سویڈن میں 50 سے زیادہ ہلاکتیں بیان کی گئی ہیں۔
بدھ کو اٹلی میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 13 ہزار، اسیین میں 9 ہزار، امریکہ میں 5 ہزار، فرانس میں 4 ہزار اور ایران میں 3 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ دنیا بھر میں کیسز کے ڈیٹا سے پتا چلتا ہے کہ مختلف ملکوں میں 35 ہزار سے زیادہ مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ امریکہ، اسپین اور فرانس میں پانچ پانچ ہزار ایسے مریض ہیں۔
ان کے برعکس لگ بھگ دو لاکھ افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں چین کے 76 ہزار شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 86 ملکوں میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 100 سے کم ہے۔
نیویارک میں 16 ہزار اموات کا خدشہ ہے، گورنر
نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے ان کی ریاست میں 16 ہزار اموات کا خدشہ ہے۔ انھوں نے یہ بات بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ماہرین کے قائم کیے گئے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہی، جن کے مطابق عالمگیر وبا امریکہ میں 93 ہزار افراد کی جان لے سکتی ہے۔
گورنر کومو نے کہا کہ ماہرین کے مطابق وبا پر قابو پائے جانے تک نیویارک میں 16 ہزار ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔ جولائی تک جانی نقصان میں کمی آںے کا امکان نہیں۔
اب تک امریکہ میں کرونا وائرس کے 2 لاکھ 13 ہزار سے زیادہ مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے 75 ہزار کا تعلق نیویارک سے ہے۔ امریکہ میں 4700 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں جن میں 1900 سے زیادہ نیویارک میں ہوئی ہیں۔
گورنر کومو نے مستقبل میں ہلاکتوں کے اندازے پر شک کا اظہار کیا کیونکہ اس وقت ملک میں نصف اموات نیویارک میں ہورہی ہیں تو وبا کے ختم ہونے تک یہ تعداد صرف 16 فیصد کیسے رہ جائے گی۔ لیکن پھر انھوں نے کہا کہ ممکن ہے یہ دوسری ریاستوں کے لیے انتباہ ہو کہ یہ وائرس صرف نیویارک کا مسئلہ نہیں ہے۔ انھیں بھی ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ اگر آپ نیویارک میں 16 ہزار اموات کے اندازے کو درست سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ دوسری ریاستوں میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوں گے۔
نائب صدر مائیک پینس کی قیادت میں کام کرنے والی کرونا وائرس ٹاسک فورس نے گیٹس فاؤنڈیشن کے ماہرین سے کہیں زیادہ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ منگل کو پریس کانفرنس میں ڈاکٹر فاؤچی اور ڈاکٹر ڈیبورا برکس نے کہا تھا کہ امریکی عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں تو ایک سے ڈھائی لاکھ اور بے احتیاطی برتی تو 15 سے 22 لاکھ تک ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔
نیویارک کا یو ایس اوپن ٹینس کورٹ اسپتال میں تبدیل
نیویارک کے میئر بل دی بلاسیو نے کرونا وائرس کے متاثرین کے لئے اسپتالوں کے بستروں کی تعداد بڑھا کر تین گنا کرنے اور مختلف سہولتوں کو عارضی اسپتالوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت نیویارک میں واقع عالمی شہرت یافتہ یو ایس اوپن ٹینس سینڑ کے بلی جین کنگ ٹینس سنیٹر میں بھی عارضی اسپتال قائم کیا جارہا ہے، جو سات اپریل سے کام شروع کردے گا۔
اس عارضی اسپتال میں کرونا کے ان مریضوں کا علاج ہوگا جن کی حالت بہت زیادہ خراب نہ ہو اور انھیں آئی سی یو میں رکھنے کی ضرورت نہ ہو۔ بل دی بلاسیو کا کہنا ہے کہ آئندہ تین ہفتوں میں یہ اسپتال اپنی مکمل گنجائش کے مطابق کام شروع کردے گا، یعنی ساڑھے تین سو بستروں کا اضافہ ہوگا۔
بل دی بلاسیو کا کہنا ہے کہ نیویارک کے بڑے اسپتالوں میں کل بیس ہزار بستروں کی گنجائش ہے۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس میں تین گنا اضافے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، کیونکہ محض اگلے ہفتے میں تین گنا زائد بیڈز کی ضرورت ہوگی۔
داعش کے قیدیوں میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ
شام میں کرد عہدیداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کرونا وائرس داعش کے ہزاروں قیدیوں میں جو شمال مشرقی شام میں قید ہیں پھیل گیا تو اس سے ہولناک تباہی ہوگی۔
ایسے میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلتی جا رہی ہے، ان عہدیداروں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مہلک بیماری نے داعش کے ہزاروں قیدیوں پر، جو شمال مشرقی شام میں قید ہیں، حملہ کیا تو اس سے ہولناک تباہی پھیل جائے گی۔
شامی ڈیموکرٹیک فورسز، یعنی ایس ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس خطرے کا قوی امکان ہے اس لئے کہ مقامی حکام کے پاس اس وائرس کے حملے کو روکنے کے لئے درکار وسائل موجود نہیں ہیں۔ ڈیموکریٹک فورسز کردوں کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ہے جو شام کے اندر داعش کے خلاف لڑنے میں امریکہ کا ایک بڑا شریک کار رہا ہے۔
اس گروپ کے سنیئر عہدیدار کا کہنا ہے اگر کرونا وائرس داعش کے قید خانوں تک پہنچ گیا تو اسے قابو میں لانا مشکل ہوجائے گا۔ اس وقت 'ایس ڈی ایف' کی قید میں داعش کے کم از کم دس ہزار جنگجو موجود ہیں جن میں سے دو ہزار غیر ملکی ہیں۔
کرد فوجی حکام نے بین الااقوامی برداری سے اپیل کی ہے کہ شام میں داعش کے قیدیوں کا مستقل حل تلاش کرنے میں مدد کی جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی عالمی برداری سے کہا ہے کہ ان قیدیوں کے لئے انصاف کے بین الااقوامی تقاضوں کو پورا کیا جائے۔