'کرونا وائرس سے سی پیک کو کوئی خطرہ نہیں'
پاکستان کے دفتر خار جہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باوجود پاکستان میں جاری چین پاکستان اقتصادی راہداری ' سی پیک' منصوبوں کو وقت پر مکمل کر لیا جائے گا۔
عائشہ فاروقی نے یہ بات جمعرات کو کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے سی پیک پر ممکنہ اثرات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں کہی۔
ترجمان نے کہا کہ سی پیک طویل المدتی منصوبوں پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر منصوبوں کی تکمیل کے لیے کئی سال درکار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ یہ منصوبے بروقت مکمل کر لیے جائٰیں گے۔
یادر ہے کہ سی پیک منصوبوں پر ہزاروں چینی شہری کام کر رہے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ان چینی شہریوں کے پاکستان آنے کی اطلاعات بھی ہیں۔
پاکستان کی دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے بعد پاکستان اور چین کی حکومت ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
بالی وڈ کے مزدوروں کی مدد، فنکاروں نے لاکھوں روپے عطیہ کر دیے
بالی وڈ فلموں کی دنیا میں جہاں فنکار، پروڈیوسرز اور دیگر بڑی بڑی شخصیات اربوں روپے کمانے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں وہیں اس انڈسٹری سے جڑے ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو برسوں سے انڈسٹری سے وابستہ رہنے کے باوجود تنگ دستی کا شکار ہیں۔
کرونا وائرس کی وبا اور طویل لاک ڈاؤنز کے سبب جہاں بڑی بڑی فلموں اور ڈراموں کی شوٹنگز رک گئی ہیں وہیں غریب ورکرز کی مالی حالت بھی خراب کردی ہے اور وہ دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہوگئے ہیں۔
لیکن فلمی دنیا کی بہت سی شخصیات نے ان کی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے عطیات دینے شروع کر دیے ہیں۔
پاکستانی معیشت پر تباہ کن اثرات کا خدشہ، آئل ریفائنریز بھی بند
اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ڈھائی کھرب امریکی ڈالرز کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کو بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا جو اس بحران سے معاشی طور پر شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی عالمی کساد بازاری بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے علاوہ افریقہ کے بعض ممالک، لاطینی امریکہ، جنوبی کوریا، بھارت اور جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتوں پر کرونا وائرس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب ملک بھر میں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی کے باعث بیشتر آئل ریفائنریز کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پاکستان میں بجلی کی کھپت 30 فی صد، پیٹرولیم مصنوعات کی 70 فی صد اور گیس کی کھپت 50 فی صد کم ہو گئی ہے۔ 80 فی صد صنعتیں بند ہونے سے لاکھوں لوگوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
جن دو ریفائنریز کو فی الحال پیداوار جاری رکھنے کا کہا گیا ہے ان میں پارکو درآمدی اور مقامی خام تیل کو استعمال کرتی ہے جبکہ اٹک ریفائری زیادہ تر مقامی خام تیل کو استعمال کرتی ہے۔
- By شمیم شاہد
پاکستان ميں مقيم افغان مہاجرين کے متاثر ہونے کا خدشہ
کرونا وائرس کے باعث پاکستان ميں مقيم 14 لاکھ سے زائد افغان مہاجرين اور باشندوں کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجريں (يو اين ايچ سی آر) کے مطابق پاکستان ميں مقيم بيشتر افغان مہاجرين کچی آباديوں ميں رہتے ہيں۔
حکومت پاکستان طورخم اور چمن بارڈر کو آمد رفت کے لیے بند کر چکی ہے۔
پاکستان ميں کرونا وائرس کے تصديق شدہ کيسز کی تعداد 2200 سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ 31 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستان ميں مقیم افغان مہاجرين بھی کرونا وائرس کے ممکنہ پھيلاؤ سے پريشان ہيں۔
ان کے مطابق ابھی تک تو حالات قابو ميں ہيں تاہم وائرس کے وبائی شکل اختیار کرنے کی صورت ميں کيمپس کے حالات بگڑ سکتے ہیں۔