بھارتی کشمیر میں کرونا کے 90 کیسز، لاک ڈاؤن میں مزید سختی
بھارت کے نیم فوجی دستوں اور مقامی پولیس نے بھارتی کشمیر کی مساجد میں جمعے کے ممکنہ اجتماعات کو روکنے کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں میں لاک ڈاؤن میں مزید سختی کی۔
وادی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں گزشتہ 16 روز سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ضلعی حکام نے پہلے ہی کووڈ-19 کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر عبادت گاہوں کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
حکام کو خدشہ تھا کہ مقامی مسلمان نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد اور خانقاہوں کا رُخ کرسکتے ہیں۔ لیکن کسی بھی علاقے سے اس طرح کی کوشش کیے جانے کی اطلاع نہیں ملی۔
تاہم بعض علاقوں کی مساجد میں مکینوں کی ایک انتہائی قلیل تعداد نے ظہر کی با جماعت نماز خاموشی کے ساتھ ادا کی۔ یہاں تک کہ اذان دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکروں کا استعمال بھی نہیں کیا گیا۔
گزشتہ جمعے کو پولیس نے وادئ کشمیر کے شوپیان اور گاندربل اضلاع میں دو پیش اماموں اور کئی مقتدیوں کو مساجد میں نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہونے پر حراست میں لیا تھا۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے جموں و کشمیر اور لداخ میں لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گیے ہیں اور نظامِ زندگی مفلوج ہے۔
کئی علاقوں میں لوگوں کو غذائی اجناس اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں تک رسد پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔
کئی غیر سرکاری تنظیموں کے اراکین اور صاحبِ ثروت شہریوں کی طرف سے مقرر کردہ افراد گھر گھر جاکر ضرورت مندوں میں اشیائے خورو نوش، ایندھن اور ادویات تقسیم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کو بھی اس کام میں حکومت کا ہاتھ بٹانے پر آمادہ کیا گیا ہے۔
جمعے کو مزید پانچ افراد کے کووڑ-19 ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ اس طرح لداخ سمیت بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 90 ہو گئی ہے۔ ان میں سے دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
- By شمیم شاہد
پشاور کی مساجد میں نمازِ جمعہ کے محدود اجتماعات
خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں بھی نمازِ جمعہ کے محدود اجتماعات ہوئے اور مساجد میں چند ہی نمازی دکھائی دیے۔ نماز کے بڑے اجتماعات روکنے کے لیے بعض مساجد کے باہر پولیس اہلکار بھی تعینات تھے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتیں چھ ہزار سے تجاوز
امریکہ میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جب کہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 245000 سے تجاوز ہو چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔
امریکہ میں جمعرات کے روز کرونا وائرس سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قائم کردہ ٹاسک فورس کے رکن ڈیبور برکس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہن کر رکھیں۔ اُن کے بقول بہت جلد سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی احتیاطی تدابیر میں ماسک کو لازمی قرار دینے کی ہدایت بھی شامل کر دی جائے گی۔
ڈیبور برکس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر گھروں تک ہی محدود رہیں اور انتہائی ضرورت کے وقت ہی گھر سے نکلیں۔
وائٹ ہاؤس کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اور حفاظتی اقدامات کے باوجود امریکہ میں کرونا وائرس سے ایک لاکھ سے دو لاکھ 40 ہزار افراد کے مرنے کا خدشہ ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ ایک بار پھر منفی آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے دوبارہ اپنا کرونا ٹیسٹ کرایا ہے، جس کا نتیجہ صرف 15 منٹ بعد ہی آ گیا۔
- By نذر الاسلام
لاک ڈاؤن کے باعث اسلام آباد کی سڑکیں اور بازار سنسان
اسلام آباد میں لال مسجد کی حدود میں جمعے کو تل دھرنے کی جگہ نہيں ہوتی تھی۔ ليکن اب لاک ڈاون کے باعث تمام ملحقہ سڑکيں ويران ہیں۔ مرکزی سڑکوں اور بازاروں میں سناٹا ہے لیکن اشیائے خور و نوش کی دکانیں اور ميڈيکل اسٹورز کھلے ہیں۔ اس کے علاوہ سڑکوں پر ماسک بيچنے والے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔