کرونا وائرس کا پیچھا کرنے والی سمارٹ فون ایپ
چین نے حال ہی میں صحت کا ایک ایپ متعارف کرایا ہے جو کرونا وائرس کے خطرے یا امکان سے آگاہ کرتا ہے۔ آپ ہر عمارت، دفتر، کارخانے، شاپنگ مال، ریستوران، غرض ہر جگہ داخل ہونے یا ٹرین، جہاز، بس یا کسی مسافر گاڑی میں سوار ہونے کے لیے، اپنا فون سکینر کے سامنے کرتے ہیں۔
فون کی سکرین پر ایک سبز رنگ کی پٹی ابھرتی ہے جس میں ایک بار کوڈ ہے۔ سبز رنگ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کرونا وائرس سے محفوظ ہیں۔ آپ کو بخار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی علامت ہے جس کا وائرس سے تعلق ہو۔ فون پر دکھائی دینے والی بار کوڈ آپ کا شناختی نمبر ہے۔ وائرس سے بچاؤ کا لباس، دستانے اور بڑے شیشوں کی عینک پہنے ہوئے سیکیورٹی سر ہلا کر آپ کو اندر جانے کی اجازت دے دیتی ہے۔
سمارٹ فون پر صحت کے لیے تین رنگ ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر پٹی کا رنگ پیلا ہے تو اس کا مطلب یہ کہ آپ کسی ایسے شخص سے مل چکے ہیں جس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اور ابھی آپ کی دو ہفتوں کی قرنطینہ کی مدت پوری نہیں ہوئی۔ یہ مدت آپ کو لازمی طور پر اپنے گھر یا قرنطینہ کے کسی مرکز میں گزارنی ہے۔
اگر سمارٹ فون پر سرخ رنگ ابھرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ میں کرونا وائرس کی کچھ علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں اور آپ کو اپنے مرض کی تشخیص کا انتظار ہے۔ ایسی صورت میں آپ باہر گھوم پھر نہیں سکتے، صرف اپنے ڈاکٹر کے پاس جا سکتے ہیں۔ سمارٹ فون پر پیلے اور سرخ رنگ کی پٹی کے ساتھ آپ کو کسی عوامی مقام پر داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔
پروازوں کی تعداد ایک تہائی رہ گئی
ڈیٹا دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ 6 مارچ کو پوری دنیا میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 88 ہزار سے زیادہ پروازیں ریکارڈ کی گئیں جن میں تجارتی پروازوں کی تعداد ایک لاکھ 9 ہزار تھی۔ اگرچہ کرونا وائرس جنوری اور فروری میں پوری دنیا میں پھیل رہا تھا اور رفتہ رفتہ سفر پابندیاں عائد کی جارہی تھیں، لیکن مارچ کے پہلے ہفتے تک پروازوں کی تعداد میں خاص کمی نہیں ہوئی تھی۔
6 مارچ کے بعد پروازوں کی تعداد میں کسی قدر کمی آنا شروع ہوئی اور 16 مارچ کو کل پروازوں کی تعداد ایک لاکھ 57 ہزار اور تجارتی پروازوں کی تعداد 91 ہزار تھی۔ 2 اپریل کو کل پروازیں 76 ہزار اور تجارتی پروازیں 34 ہزار رہ گئیں۔
پوری دنیا میں فضائی اداروں کی تعداد 5 ہزار کے لگ بھگ ہے جن کے پاس تقریباً 40 ہزار طیارے ہیں۔ 2019 میں تجارتی پروازوں میں ساڑھے چار ارب مسافروں نے سفر کیا۔ ڈیٹا فرم سیریم کی اینالسٹ ہیلینا بنیکر کا کہنا ہے کہ اس وقت نصف سے زیادہ طیارے زمین پر کھڑے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان میں سے کچھ طیارے کبھی دوبارہ کام میں نہیں آئیں گے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں ڈیری کی صنعت پر شدید دباؤ
سفر کی پابندیوں کی وجہ سے پلانٹ پر ورک فورس کی کمی دنیا بھر میں محسوس کی جا رہی ہے اور خوراک کے شعبے میں فصل بونے، کاٹنے اور پھر سبزیاں اور پھل مارکیٹ تک پہنچانے کیلئے ضروری کارکن انتہائی کم ہو گئے ہیں اور ریفریجریٹڈ ٹرک اور ٹرک ڈرائیور دستیاب نہ ہونے کے باعث گوشت اور اناج کی ترسیل بہت سست ہو گئی ہے۔
کرونا وائرس کی وبا کے باعث امریکہ میں سکول اور ریستوران بند ہوئے تو توجہ ہول سیل سے ریٹیل گروسری سٹورز کی جانب ہو گئی اور اب دودھ مکھن اور پنیر بنانے والے پلانٹس کیلئے اپنے مال کی پیکنگ اور ٹرانسپورٹ کا شدید مسئلہ پیدا ہو گیا۔ ورک فورس کم ہو گئی اور مال پہنچانے کیلئے ٹرک ڈرائیور تلاش کرنا مشکل ہو گیا۔ اور سب سے بڑا مسئلہ ان اشیا کو محفوظ رکھنے کا ہے، کیونکہ دودھ کو گوشت کی طرح فریز نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اناج کی طرح گوداموں میں رکھا جا سکتا ہے۔
لیڈل جیسے ڈیری فارم کے مالکان خود دودھ مارکیٹ تک پہنچا سکیں تو کوئی مسئلہ نہ ہو، کیونکہ لوگوں کو دودھ کی ضرورت اب بھی ہے۔ مگر امریکہ میں پیکیجنگ بھی ایک خاص طریقے سے ہوتی ہے۔ اور ہول سیل کیلئے مال مہیّا کرنے والوں کیلئے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک نیا پلانٹ لگا کر چھوٹے پیکٹ تیار کریں جو عام مارکیٹ میں براہِ راست خریداروں تک پہنچیں۔
منگل کے دن سے اب تک لیڈل اپنے ڈیری فارم میں اپنی 480 گائے بھینسوں کا 4700 گیلن دودھ روزانہ بس زمین پر بہا رہے ہیں۔ ایف ڈی اے سے منسلک ہونے کے باعث انہیں تو ان کے دودھ کی قیمت مل جائے گی مگر اس دودھ سے ہونے والی آمدنی پر انحصار کرنے والے کارکنوں کی اجرتیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ تاہم، شکاگو سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر بخاری امید کرتے ہیں کہ آئندہ دو ماہ تک حالات واضح ہو جائیں گے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کہاں سے آیا
وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹر ویو میں ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سرجن ڈاکٹر سعید قریشی نے بتایا کہ یونیورسٹی کے بائیو ٹیکنالوجسٹس کرونا وائرس پر کنٹرول کے سلسلے میں پلازما تھیراپی پرکام کر رہے ہیں اور یہ ریسرچ کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے مالیکیولر پتھالوجی کے شعبے نےکوویڈ 19 کا آر این اے، جو اس کا جینیاتی خاکہ ہے، کراچی یونیورسٹی کے جین کی تحقیق سے متعلق شعبے کو فراہم کر دیا ہے، جہاں اس کی جینومنگ سیکونس پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ جس سے یہ جاننے میں مدد مل سکے گی کہ پاکستان پر حملہ کرنے والے وائرس کا جنیاتی نقشہ دنیا کے کس حصے میں پائے جانے والے کرونا وائرس سے ملتا ہے۔ اور یہ کہ یہ وائرس کتنا مہلک ہے اور اس پر کنٹرول کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔