18 ممالک میں کرونا وائرس کا ایک بھی کیس نہیں
کرونا وائرس 204 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں پھیل چکا ہے اور اربوں افراد گھروں میں بند ہیں۔ لیکن اب بھی، 18 ممالک ایسے ہیں جو اس وبا سے متاثر نہیں یا وہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
ان 18 ملکوں کے علاوہ 32 خطے ایسے ہیں جن پر کسی ملک کا قبضہ ہے، لیکن کم از کم ان کے شہری وائرس سے محفوظ ہیں۔ 10 علاقے وہ ہیں جن کی مستقل آبادی نہیں۔ مزید 6 متنازعہ علاقے ایسے ہیں جنھوں نے کسی ملک سے آزادی کا اعلان کیا ہوا ہے، اگرچہ انھیں چند ریاستوں کے سوا کسی نے تسلیم نہیں کیا۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ تمام ممالک یا خطے کرونا وائرس سے محفوظ ہیں جہاں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، کیونکہ کئی ملکوں کے پاس ٹیسٹ کٹس نہیں ہیں یا وہاں حالات ایسے نہیں کہ شہریوں کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔ یہ خدشہ بھی ہے کہ بعض ملک ایسے کیسز چھپا رہے ہیں۔
جن 18 ملکوں میں ابھی تک کرونا وائرس کے ایک بھی مریض کی تصدیق نہیں ہوئی ان میں ایشیا کے 4 ملک یمن، شمالی کوریا، تاجکستان اور ترکمانستان، افریقہ کے 4 ملک جنوبی سوڈان، ساؤ تومے اینڈ پرنسپ لیسوتھو اور کوموروز اور اوشنیا کے دس جزائر سولومن آئی لینڈز، وینوواٹو، سموآ، کیریباتی، مائیکرونیشیا، ٹونگا، مارشل آئی لینڈز، پالاؤ، ٹووالو اور نورو شامل ہیں۔
کرونا وائرس حاملہ خواتین کے لیے کتنا خطرناک ہے
کرونا وائرس کی عالمگیر وبا نے دنیا بھر کو بحرانی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے اور اس سے بچنے کے لیے لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا سے متاثر اور ہلاک ہونے والوں میں مردوں کی تعداد خواتین کی نسبت زیادہ ہے۔ دوسرے کئی عوامل کے علاوہ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ خواتین کا قدرتی مدافعتی نظام مردوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
لیکن، کیا حاملہ خواتین بھی کرونا وائرس کا مقابلہ کر سکتی ہیں، کیونکہ حمل کے دوران عورت کے اندر آنے والی تبدیلیاں اس کے مدافعتی نظام کو کمزور بنا دیتی ہیں۔ طبی ماہرین اس سوال کا جواب ہاں میں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر حاملہ خواتین لوگوں سے سماجی فاصلے قائم رکھیں تو اس وبا کا خطرہ ان کے لیے کم ہو جاتا ہے۔
ٹیلی میڈیسن کی میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر جین وین ڈس کہتی ہیں کہ اگر حاملہ عورت سماجی فاصلے قائم رکھنے کے اصول پر عمل کرتی ہے تو اسے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تک جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ وائرس ان کے مدافعتی نظام کو نشانہ بنا رہا ہو۔
ایک حالیہ رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی حاملہ خاتون کرونا وائرس میں مبتلا ہو جائے تو اس کی صحت یابی کی شرح مردوں کے مقابلے میں بہتر ہے۔
سینما گھر بند، نئی فلموں کی ریلیز موخر
کرونا وائرس کے باعث سینما گھروں کے دروازے شائقین کیلئے بند کر دیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے چین اور امریکہ میں نئی فلموں کی ریلیز کو موخر کیا جا رہا ہے۔ اس عالمی وبا نے دونوں ممالک میں قائم سینما گھروں، شائقین اور فلم سازوں کو کیسے متاثر کیا ہے؟ دیکھئے اس ویڈیو میں
کرونا وائرس کا پیچھا کرنے والی سمارٹ فون ایپ
چین نے حال ہی میں صحت کا ایک ایپ متعارف کرایا ہے جو کرونا وائرس کے خطرے یا امکان سے آگاہ کرتا ہے۔ آپ ہر عمارت، دفتر، کارخانے، شاپنگ مال، ریستوران، غرض ہر جگہ داخل ہونے یا ٹرین، جہاز، بس یا کسی مسافر گاڑی میں سوار ہونے کے لیے، اپنا فون سکینر کے سامنے کرتے ہیں۔
فون کی سکرین پر ایک سبز رنگ کی پٹی ابھرتی ہے جس میں ایک بار کوڈ ہے۔ سبز رنگ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کرونا وائرس سے محفوظ ہیں۔ آپ کو بخار نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ایسی علامت ہے جس کا وائرس سے تعلق ہو۔ فون پر دکھائی دینے والی بار کوڈ آپ کا شناختی نمبر ہے۔ وائرس سے بچاؤ کا لباس، دستانے اور بڑے شیشوں کی عینک پہنے ہوئے سیکیورٹی سر ہلا کر آپ کو اندر جانے کی اجازت دے دیتی ہے۔
سمارٹ فون پر صحت کے لیے تین رنگ ظاہر ہوتے ہیں۔ اگر پٹی کا رنگ پیلا ہے تو اس کا مطلب یہ کہ آپ کسی ایسے شخص سے مل چکے ہیں جس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ اور ابھی آپ کی دو ہفتوں کی قرنطینہ کی مدت پوری نہیں ہوئی۔ یہ مدت آپ کو لازمی طور پر اپنے گھر یا قرنطینہ کے کسی مرکز میں گزارنی ہے۔
اگر سمارٹ فون پر سرخ رنگ ابھرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ میں کرونا وائرس کی کچھ علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں اور آپ کو اپنے مرض کی تشخیص کا انتظار ہے۔ ایسی صورت میں آپ باہر گھوم پھر نہیں سکتے، صرف اپنے ڈاکٹر کے پاس جا سکتے ہیں۔ سمارٹ فون پر پیلے اور سرخ رنگ کی پٹی کے ساتھ آپ کو کسی عوامی مقام پر داخلے کی اجازت نہیں مل سکتی۔