چین: کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں یومِ سوگ
چین میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کی یاد میں یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں ہفتے کو تمام تفریحی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں جب کہ عمارتوں پر لگے چینی پرچم بھی سرنگوں کیے گئے ہیں۔
ہفتے کو صبح 10 بجے چین میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں تین منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے بعد کاروں، ٹرینوں اور بحری جہازوں نے ہارن بجائے اور ملک بھر میں جگہ جگہ سائرن بجائے گئے۔
خیال رہے کہ کرونا وائرس کی وبا چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوئی تھی جو اب دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ لیکن چین اس وبا پر قابو پا چکا ہے۔
چین میں کرونا وائرس سے 3300 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں جن میں سے 2500 سےزائد ہلاکتیں صرف ووہان شہر میں ہوئی تھیں۔
کویت اور جارجیا میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکتیں
کرونا وائرس سے کویت میں ایک شخص اور جارجیا میں ایک معمر خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔ کویت اور جارجیا میں ہفتے کو کرونا وائرس سے پہلی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کویت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 62 کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ کویت میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 479 ہو گئی ہے۔
دوسری جانب جارجیا میں بھی ایک 79 سالہ خاتون ہفتے کو کرونا وائرس سے جان کی بازی ہار گئیں۔ 37 لاکھ سے زائد آبادی والے ملک جارجیا میں اب تک کرونا وائرس کے 157 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
کرونا سے بچاؤ کے لیے ملیریا کی دوا کا ٹرائل کر رہے ہیں: وزیر صحت پنجاب
پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف شہروں میں کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ البتہ، قرنطینہ میں موجود افراد کی اکثریت کے کرونا ٹیسٹ منفی آ رہے ہیں۔
لاہور میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے بہت بہتری آئی ہے۔ عام آدمی کی نقل و حرکت نہ ہونے کی وجہ سے کرونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کرونا کیسز کی تعداد بڑھے گی۔ لہذٰا ہم توقع کر رہے ہیں کہ اتنے لوگ ہی اسپتال آئیں گے۔ جنہیں ہم سنبھال سکتے ہوں۔
وزیرِ صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے میں 10 ہزار بیڈز کرونا وائرس کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ لیکن اس تعداد کو بڑھا کر ہم 22 ہزار کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ابھی تک جو مریض ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ اُن کی اکثریت وہ ہے جو قرنطینہ میں تھی۔ تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والے 10 ہزار افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ
پاکستان میں حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ حکومت نے رواں ماہ کے اختتام تک متوقع مریضوں کی تعداد کے بارے بھی عدالت کو آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ میں 25 اپریل تک کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات ہزار کیسز سنگین نوعیت اور ڈھائی ہزار کے قریب کیسز تشویش ناک نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 41 ہزار کے قریب کیسز معمولی نوعیت کے ہوں گے جن کی جلد صحت یابی کی امید ہے۔
حکومت نے عدالت کو اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبوں اور وبائی ماہرین کے ساتھ مل کر کرونا وائرس سے بچاؤ کی گائیڈ لائنز تیار کی ہیں۔ بیرون ملک سے واپس آنے والوں کی اسکریننگ کے قوائد بنائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے بھی ضابطہ کار وضع کر لیا گیا ہے۔