ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرز کرونا وائرس کا براہ راست ہدف
اس وقت پوری دنیا کے سامنے سب سے اہم مسئلہ کوویڈ 19 کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کا تحٖفظ کرنا ہے۔ اگر ڈاکٹر اور طبی عملہ محفوظ ہو گا تو وہ متاثرہ افراد کو بچانے کا اپنا فریضہ سرانجام دے سکے گا۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے حال ہی میں لوگوں کو پبلک مقامات پر جہاں ماسک پہننے کا مشورہ دیا ہے، وہاں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ این 95 قسم کے ماسک صرف ڈاکٹروں اور طبی عملے کو دیے جائیں جن کا زیادہ وقت اسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے ساتھ گزرتا ہے۔
سپین کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والے ہیلتھ ورکرز کی تعداد 18000 سے زیادہ ہے جو ملک میں وائرس کا ہدف بننے والے کل افراد کی تعداد کا 15 فی صد ہے۔سپین کی حکومت ڈاکٹروں کی کمی پوری کرنے کے لیے اب غیر ملکی ڈاکٹروں کو ملازمتیں دے رہی ہے اور نرسیں رکھ رہی ہے۔
اٹلی میں بھی صورت حال ابتر ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اٹلی میں 11 ہزار سے زیادہ ہیلتھ ورکرز کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں جو کل ہیلتھ فورس کا تقریباً 10 فی صد ہے۔ وہاں 73 ڈاکٹر کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ڈینٹسٹ بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی ایک کا اسپتالوں سے تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں وائرس اس وقت منتقل ہوا جب وہ اپنے پرائیویٹ کلینکس میں متاثرہ افراد کے ساتھ رابطے میں آئے تھے۔
ڈاکٹروں اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے انہیں ضروری ساز و سامان فراہم کرنا اشد ضروری ہے جس کی طلب میں بڑے پیمانے پر اضافے اور ٹرانسپورٹ کی بندش سے رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ یورپ اور امریکہ کی حکومتوں نے اپنے صنعتی شعبے کو ماسک، جراثیم کش ادویات اور وینٹی لیٹرز کی ہنگامی بنیادوں پر تیاری کے لیے کہا ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی ہیلتھ ورکرز کے لیے حفاظتی سامان متاثرہ ممالک کو فراہم کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دنوں میں صورت حال بہتر ہو جائے گی۔
اینٹی باڈیز سے کرونا وائرس کے علاج کے تجربات
چین کے طبی ماہرین مخصوص اینٹی باڈیز کو علیحدہ کر کے کرونا وائرس کو بلاک کرنے کا تجربہ کر رہے ہیں ہیں۔ چینی ماہرین پر امید ہیں کہ ان کا یہ تجربہ کرونا وائرس کا کارگر علاج ثابت ہو گا۔
خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق بیجنگ یونی ورسٹی کے سائنس دان چند اینٹی باڈیز کو علیحدہ کر کے یہ تجربات کر رہے ہیں کہ آیا انہیں کرونا وائرس کو بلاک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ انسانی خلیوں میں داخل نہ ہو سکیں۔
بیجنگ میں سنگ ہوا یونی ورسٹی کے ایک محقق ژانگ لنکی کا کہنا ہے کہ دوسرے امکانی علاج یعنی پلازما کی نسبت یہ طریقہ زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ پلازما میں بھی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں مگر ان کا تعلق خون کے گروپ سے ہوتا ہے اور اس لیے ہر پلازما ہر مریض کو نہیں دیا جا سکتا۔ یہ پلازما ان افراد سے حاصل کیا جاتا ہے جو کرونا مرض سے صحت یاب ہو چکے ہوں۔
عام طور ہر کسی دوا کی تیاری میں دو سال لگ جاتے ہیں کیوں کہ پہلے جانوروں پر تجربات کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد انسانوں پر۔ مگر کرونا کی عالمگیر وبا کے پیش نظر اس کے دورانیے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ژانگ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اینٹی باڈیز کا تجربہ چھ ماہ کے اندر انسانوں پر کیا جا سکے گا۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 66 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 66 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے جب کہ 12 لاکھ سے زائد افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
کرونا وائرس کے اعداد و شمار جمع کرنے والی ویب سائٹ 'ورلڈومیٹرز' کے مطابق کرونا وائرس کے کیسز میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں دنیا بھر میں 17 ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ کیسز اب تک امریکہ میں سامنے آئے ہیں جہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد تین لاکھ 11 ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے جب کہ 8454 افراد کی موت ہوئی ہے۔ امریکہ میں 35 فی صد کیسز صرف نیویارک میں سامنے آئے ہیں جہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
اسپین میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 31 ہزار تک پہنچ گئی ہے جب کہ ہلاکتوں میں 471 افراد کا اضافہ ہوا ہے جس سے اموات 12418 ہو گئی ہیں۔
اٹلی میں ہلاکتیں 15362 ہو چکی ہیں جب کہ یہاں مصدقہ مریض ایک لاکھ 25ہزار کے قریب ہیں۔
اٹلی میں حکام نے 21ہزار افراد کے صحت یاب ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
جرمنی میں ہلاکتیں 1478 ہو گئی ہیں تاہم یہاں متاثرہ مریضوں کی تعداد 97ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے اور مریضوں میں اضافہ بھی تیزی سے ہو رہا ہے۔
چار دن میں ٹیسٹ کرنے کی استعداد کو دو گنا کر دیا گیا ہے: اسد عمر
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ چار دن میں ٹیسٹ کرنے کی استعداد کو دو گنا کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ بندشوں کی وجہ سے کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی ہے۔ اگر بندشیں نہ ہوتیں تو کرونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
گزشتہ ماہ کے دوسرے ہفتے سے ملک بھر میں بندشوں کا آغاز ہوا تھا جو تاحال جاری ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرونا جس طرح پھیل رہا ہے اس سے موجودہ نظام صحت کم پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں تین ہزار کے قریب کرونا وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ نظم و ضبط کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اقتصادی اثرات سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل اسٹاف کی حفاظت کرنا ترجیح ہے کیونکہ ان لوگوں نے دیگر کا علاج کرنا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں میڈیکل کے آلات اور سامان براہ راست اسپتالوں کو فراہم کیا جائے گا۔