رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:34 6.4.2020

چمن سرحد یک طرفہ آمد و رفت کے لیے کھل گئی

13:24 6.4.2020

پاکستان نے چمن بابِ دوستی گیٹ 9 اپریل تک کھول دیا

پاکستان نے پاک افغان سرحد جذبۂ خیرسگالی تحت یکطرفہ پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دی ہے۔

باب دوستی گیٹ نو اپریل تک کھلا رہے گا جہاں سے پاکستان میں پھنسے افغان شہریوں کو واپس جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

کرونا وائرس کے خطرے کی پیشِ نظر چمن سرحد مسلسل 36ویں روز ہر قسم کی تجارت کے لیے بند ہے جس کی وجہ سے نیٹو سپلائی، افغان ٹرانزیٹ ٹریڈ اور بڑی تعداد میں ٹرک و کنٹینر پاکستان میں پھنس گئے ہیں۔

12:48 6.4.2020

پرائیوٹ اسکولوں میں آن لائن کلاسز، سرکاری اسکول کیا کریں؟

کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کی پڑھائی پر بھی اثر پڑا ہے۔ بعض نجی اسکولوں نے تو آن لائن کلاسز شروع کردی ہیں لیکن سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی اکثریت کھیل کود کر وقت گزار رہی ہے۔ لاہور سے ثمن خان کی ڈیجیٹل رپورٹ

نجی اسکولوں میں آن لائن کلاسز، سرکاری اسکول کیا کریں؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:04 0:00

12:46 6.4.2020

پاک افغان طورخم سرحد عارضی طور پر کھول دی گئی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان نے پاک افغان طورخم سرحد کو چار روز کے لیے جزوی طور پر کھول دیا ہے۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کے لیے طورخم سرحد کھولی گئی ہے جو نو اپریل تک کھلی رہے گی۔

پالیسی کے تحت یومیہ صرف ایک ہزار افغان شہری سرحد پار کر کے افغانستان جاسکیں گے۔ سرحدی گزر گاہ پر صبح چھ بجے سے افغان شہریوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔

سرحد کی جزوی بحالی سے صرف وہ افغان شہری مستفید ہوسکتے ہیں جو لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں پھنس گئے تھے۔

طورخم کی سرحدی گزرگاہ سے پہلے روز افغانستان جانے والوں میں لوگ شامل ہیں ہیں جو پشاور، اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں علاج معالجے کے لیے آئے تھے جب کہ سرحد پار جانے والوں میں 250 سے زیادہ تبلیغی جماعت کے اراکین بھی شامل ہیں۔

سرحد پار افغانستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی باشندے 16 مارچ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں لگ بھگ 8000 ڈرائیور اور ٹرانسپورٹرز کے علاوہ تقریباً 90 طلبہ بھی شامل ہیں جو کابل، جلال آباد، قندھار اور خوست کے میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے سرحد پار افغانستان میں پھنسے ہوئے باشندوں کی واپسی کے لیے کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG