نیویارک سٹی کے پارکس عارضی قبرستان بنیں گے
نیویارک سٹی میں کرونا وائرس کے باعث اموات میں تیزی سے ہونے والے اضافے اور اس کی تدفین میں حائل دشواریوں کے پیش نظر مقامی پارکس عارضی قبرستان کے طور پر استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ بات نیویارک سٹی کونسل مین مارک لیوائن نے اپنے مختلف ٹوئٹس میں کہی ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے مارک لیوائین کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا ہے کہ حکام نے عارضی انتظامات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک پارک میں خندقیں کھود دی گئی گئی ہیں جن میں ایک قطار میں دس تابوت رکھے جائیں گے۔ جن بہت جلد عارضی تدفین شروع کر ،دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عارضی تدفین کا یہ عمل پروقار اور منظم طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ اس کا مقصد اٹلی جیسی صورت حال سے بچنا ہے جہاں مجبوراً فوج کو چرچ، حتٰی کہ سڑکوں سے نعشیں اٹھانی پڑی تھیں۔
وزیراعظم بورس جانسن آئی سی یو منتقل
کرونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو طبیعت بگڑنے پر انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وزیر خارجہ ڈومنیک راب بورس جانسن کی نیابت کریں گے۔
55 سالہ بورس جانسن کو اتوار کو سینٹ تھامس اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق اتوار کی شام سے وزیراعظم ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہیں جن میں کرونا وائرس کی علامات برقرار تھیں۔ پیر کی دوپہر وزیراعظم کی طبیعت مزید خراب ہوئی۔ اس کے بعد میڈیکل ٹیم کی سفارش پر انھیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا بہترین طریقے سے خیال رکھا جا رہا ہے اور وہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے شکرگزار ہیں۔
بورس جانسن کو دس دن پہلے کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر معمول کے ٹیسٹ کے لیے اسپتال لایا گیا تھا۔ انھیں تیز بخار اور کھانسی کی شکایت لاحق تھی۔
امریکہ میں جون تک اموات میں نمایاں کمی متوقع
امریکہ میں ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ 19 جون وہ پہلا دن بن سکتا ہے، جب ملک میں کرونا وائرس سے کوئی شخص ہلاک نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے یہ تاریخ 16 جولائی بیان کی جا رہی تھی لیکن نئے اندازوں کے مطابق ایسا ایک ماہ پہلے ممکن ہو جائے گا۔ یہ پیش گوئی ملک میں کرونا کی صورت حال اور اس کے خلاف اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے کمپیوٹر ماڈلز کی مدد سے کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دن آنے سے پہلے کرونا کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور ایک دن میں تین ہزار ہلاکتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ ڈیٹا امریکہ کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ میٹرکس اینڈ اویلیویشن نے مرتب کیا ہے۔
امریکی کے ہیلتھ ڈیٹا کے مطابق 10 دن بعد یعنی 16 اپریل کو کرونا وائرس کی وبا کا عروج ہو گا اور اس دن 3130 ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ لیکن اپریل کے آخری دن تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہوتی رہیں گی۔ مئی کے آخری ہفتے میں ہلاکتوں کی یومیہ تعداد سو سے کم رہ جائے گی اور امکان ہے کہ 19 جون کو کرونا وائرس سے ایک بھی شخص ہلاک نہیں ہو گا۔
اگر یہ پیش گوئی درست ہے تو خدشہ ہے کہ امریکہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 81 ہزار سے زیادہ رہے گی۔
انسٹی ٹیوٹ نے واضح کیا ہے کہ روزانہ اعداد و شمار اپ ڈیٹ کرنے کی وجہ سے مستقبل کے ڈیٹا میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ضروری نہیں کہ آج دیکھا جانے والا ڈیٹا کل بھی ایسا ہی ہو۔ لیکن بہرحال اس سے اندازہ قائم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
18 ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ کرونا وائرس ٹیسٹ
کرونا وائرس کے ٹیسٹ اور کیسز کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف ملکوں میں وبا کے پھیلنے کی شرح الگ ہے۔ جن ملکوں نے بڑی تعداد میں ٹیسٹ کیے اور مریضوں کی تصدیق ہوتے ہی انھیں قرنطینہ تک محدود کر دیا، وہاں کیسز کی تعداد کم ہے۔ جن ملکوں میں زیادہ ٹیسٹ کرنے کے باوجود نقل و حرکت روکی نہیں جا سکی، وہاں مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
کرونا وائرس کے مریضوں کا ڈیٹا مرتب کرنے والی ویب سائٹ ورڈومیٹرز کے مطابق اب تک 18 ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں اسرائیل، آسٹریا، متحدہ عرب امارات اور ناروے جیسے نسبتاً کم آبادی والے ملک شامل ہیں۔
امریکہ میں ساڑھے 18 لاکھ آبادی کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے ساڑھے 3 لاکھ افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ امریکہ کی آبادی لگ بھگ 33 کروڑ ہے، اس لیے فی الحال ایک فیصد بھی آبادی کے ٹیسٹ نہیں کیے جا سکے۔ جن لوگوں کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں، ان میں سے 19 فیصد کے نتیجے مثبت آئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔