جاپان کے کئی علاقوں میں ہنگامی حالات نافذ
جاپان نے ملک کے متعدد علاقوں میں کرونا وائرس سے متعلق ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ ٹوکیو اور دیگر چھ پریفیکچرز میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کے بقول کرونا وائرس سے عام لوگوں کی زندگی اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ ہنگامی حالت ایک ماہ کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ اس کے تحت شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے امدادی پیکج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
امریکی صدر کی انسپکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کی رپورٹ سے اختلاف
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلتھ اور ہیومن سروسز کی قائم مقام انسپکٹر جنرل کی اس رپورٹ سے شدید اختلاف کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے عملے کے لیے حفاظتی ساز و سامان اور کرونا وائرس کی ٹیسٹ کٹس کی قلت ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ غلط ہے۔ امریکہ میں دنیا بھر سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔
انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ایک چارٹ دکھایا جس میں بتایا گیا کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے 17 لاکھ 90 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس تعداد میں ہر روز ایک لاکھ 25 ہزار کا اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے قائم مقام انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے دیگر حصوں کے بارے میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران رپورٹرز سے کہا کہ وہ رپورٹ مرتب کرنے والے شخص کا نام بتائیں۔ یہ بتائیں کہ اسے کب تعینات کیا گیا تھا۔
بریفنگ کے بعد جب ایک رپورٹر نے کہا کہ قائم مقام انسپکٹر جنرل کا نام کرسٹی گریم ہے۔
تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مذکورہ رپورٹر سے پوچھا کہ کرسٹی گریم کب سے حکومت میں کام کر رہی ہیں۔
تو رپورٹر کا کہنا تھا کہ وہ سابقہ حکومتوں کے دوران بھی سرکاری عہدے پر کام کرتی رہی ہیں۔
اس پر صدر ٹرمپ نے پوچھا کہ کیا آپ کا مطلب اوباما انتظامیہ سے ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ بتانے کے لیے آپ کا شکریہ۔
خیال رہے کہ کرسٹی گریم کا تقرر 1999 میں کیا گیا تھا جب کہ وہ ڈیموکریٹک اور رپبلکن دنوں حکومتوں کے دوران خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔
بلوچستان کے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کی ہڑتال جاری
کوئٹہ میں ڈاکٹرز پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان بھر کے سرکاری اسپتالوں میں طبی عملے کی ہڑتال جاری ہے۔
صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر اضلاع کے سرکاری اسپتال مکمل طور بند ہیں۔ جس سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد سمیت تمام مریض پریشانی کا شکار ہیں۔
بلوچستان کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات ڈاکٹرز نے تھانوں میں گزاری ہے۔ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں ہوں گے کسی شعبے میں بھی ڈاکٹر خدمات انجام نہیں دیں گے۔
ان کے مطابق ڈاکٹرز صرف انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
قیدیوں کی رہائی سے متعلق فیصلے کالعدم قرار
پاکستان میں سپریم کورٹ نے اسلام آباد، سندھ اور لاہور ہائی کورٹس کے کرونا وائرس کے پیش نظر قیدیوں کی رہائی سے متعلق فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رہا کیے گئے قیدیوں کو دوبارہ گرفتارکرنے کا حکم دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کی قیدیوں سے متعلق سفارشات تسلیم کرلی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ حالات چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں قانون کا قتل نہیں ہونا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے کرونا وائرس کےباعث انڈر ٹرائل قیدیوں کی رہائی سے متعلق ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں کے فیصلے کے خلاف درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے رہا کیے گئے قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے ہائی کورٹس کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے سنگین جرائم، نیب اور منشیات کے مقدمات میں دی گئی ضمانتیں بھی منسوخ کر دیں۔
عدالت نے قیدیوں کی رہائی سے متعلق اٹارنی جنرل کی تجاویز منظور کرلیں۔