رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:25 8.4.2020

خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز کی یومیہ اجرت پر بھرتی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو یومیہ اجرت کی بنیاد پر بھرتی کرنے کیا جائے گا۔

محکمہ صحت نے بدھ کو اخبارات میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی یومیہ اجرت پر بھرتی کے لیے اشتہارات شائع کیے ہیں۔

سرکاری اشتہار کے مطابق مختلف امراض اور صحت کے شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز کو روزانہ 15 سے 20 ہزار روپے جب کہ عام ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کو 10 سے 15ہزار روپے اجرت دی جائے گی۔

نرسز کو 7000 سے 9000 جب کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کو 3000 سے 5000 روپے روزانہ ادا کیے جائیں گے۔

صوبائی کابینہ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو فوری طور بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

13:13 8.4.2020

پنجاب میں اینٹی ملیریا ادویات سے کرونا مریضوں کا علاج

پاکستان کے صوبے پنجاب میں ملیریا سے بچاؤ کی ادویات کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے بھی کارگر ثابت ہو رہی ہیں۔

محکمۂ صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین اب تک دنیا بھر میں کہیں دستیاب نہیں البتہ اس وبا سے متاثرہ مریضوں کا علاج اینٹی ملیریا ادویات سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملیریا کی دوا کلوروکوئن کو کرونا وائرس کے خلاف اہم ہتھیار قرار دیا تھا۔ منگل کو ہی صدر ٹرمپ کے انتباہ پر بھارت نے اینٹی ملیریا ادویات کی برآمد پر عائد پابندی ختم کی ہے۔

پاکستان میں بھی اینٹی ملیریا ادویات کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو دی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں میو اسپتال لاہور کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم بتاتے ہیں کہ ملیریا سے بچاؤ کی ادویات کو کرونا کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے جس کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔

مزید جانیے

13:06 8.4.2020

'خوف کی بڑی وجہ کرونا سے ہونے والی اموات کی شرح ہے'

کرونا وائرس کا خوف اور ذہنی دباو
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:27 0:00

امریکہ کی نصف آبادی کو کرونا وائرس نے ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔

خوف اور بے یقینی کی فضا نے ایک عام شہری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف لمحہ موجود میں زندہ رہے۔ ہر دن اس انداز میں گزارے کہ کوئی ایسی بے احتیاطی نہ ہو کہ اسے وائرس کا شکار کر دے۔

اگر گھر میں کسی کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آ جائے تو آئندہ دنوں کا خوف پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟ کیا اس کی جان بچ جائے گی؟ کیا ہم سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے؟ یہ خوف اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کو مطمئن اور پر سکون زندگی سے بہت دور لے گیا ہے۔

ڈاکٹر سہیل چیمہ نیویارک میں سرٹیفائڈ سائکیٹرسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے خوف کی بڑی وجہ اس سے ہونے والی اموات کی شرح ہے۔

ان کے بقول انسان کو سب سے زیادہ خوف موت کا ہی ہوتا ہے اور پھر ایسی بیماری جس کا علاج ہی موجود نہیں اور اس کے بارے میں معلومات بھی محدود ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں میں ایک سراسیمگی پائی جاتی ہے۔

سہیل چیمہ کے مطابق لاک ڈاؤن نے اس خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔

ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث ذہنی امراض کی شدت میں 36 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

مزید جانیے

13:00 8.4.2020

ترکی میں لاک ڈاون کا امکان

ترکی ان ممالک میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ملک کا سب سے بڑا شہر استنبول وبا کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا اصرار ہے کہ ترکی کی معیشت کا پہیہ چلتے رہنا چاہیے۔

صدر کے اس اصرار پر بعض کاروباری لوگ بھی پریشان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن ضروری ہے۔

استنبول شہر کے میئر اکرم اماموگولو نے بھی یہ کہتے ہوئے استنبول کو مکمل طور سے بند کرنے کے لیے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر اب بھی بہت زیادہ تعداد میں لوگ موجود ہیں۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG