- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز کی یومیہ اجرت پر بھرتی
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو یومیہ اجرت کی بنیاد پر بھرتی کرنے کیا جائے گا۔
محکمہ صحت نے بدھ کو اخبارات میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی یومیہ اجرت پر بھرتی کے لیے اشتہارات شائع کیے ہیں۔
سرکاری اشتہار کے مطابق مختلف امراض اور صحت کے شعبوں کے ماہر ڈاکٹرز کو روزانہ 15 سے 20 ہزار روپے جب کہ عام ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کو 10 سے 15ہزار روپے اجرت دی جائے گی۔
نرسز کو 7000 سے 9000 جب کہ پیرا میڈیکل اسٹاف کو 3000 سے 5000 روپے روزانہ ادا کیے جائیں گے۔
صوبائی کابینہ نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹرز اور طبی عملے کو فوری طور بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
- By ضیاء الرحمن
پنجاب میں اینٹی ملیریا ادویات سے کرونا مریضوں کا علاج
پاکستان کے صوبے پنجاب میں ملیریا سے بچاؤ کی ادویات کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے بھی کارگر ثابت ہو رہی ہیں۔
محکمۂ صحت پنجاب کا کہنا ہے کہ ان ادویات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین اب تک دنیا بھر میں کہیں دستیاب نہیں البتہ اس وبا سے متاثرہ مریضوں کا علاج اینٹی ملیریا ادویات سے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملیریا کی دوا کلوروکوئن کو کرونا وائرس کے خلاف اہم ہتھیار قرار دیا تھا۔ منگل کو ہی صدر ٹرمپ کے انتباہ پر بھارت نے اینٹی ملیریا ادویات کی برآمد پر عائد پابندی ختم کی ہے۔
پاکستان میں بھی اینٹی ملیریا ادویات کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو دی جا رہی ہے۔
اس سلسلے میں میو اسپتال لاہور کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم بتاتے ہیں کہ ملیریا سے بچاؤ کی ادویات کو کرونا کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے جس کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
- By مدثرہ منظر
'خوف کی بڑی وجہ کرونا سے ہونے والی اموات کی شرح ہے'
امریکہ کی نصف آبادی کو کرونا وائرس نے ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔
خوف اور بے یقینی کی فضا نے ایک عام شہری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف لمحہ موجود میں زندہ رہے۔ ہر دن اس انداز میں گزارے کہ کوئی ایسی بے احتیاطی نہ ہو کہ اسے وائرس کا شکار کر دے۔
اگر گھر میں کسی کا کرونا کا ٹیسٹ مثبت آ جائے تو آئندہ دنوں کا خوف پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اب کیا ہوگا؟ کیا اس کی جان بچ جائے گی؟ کیا ہم سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے؟ یہ خوف اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کو مطمئن اور پر سکون زندگی سے بہت دور لے گیا ہے۔
ڈاکٹر سہیل چیمہ نیویارک میں سرٹیفائڈ سائکیٹرسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے خوف کی بڑی وجہ اس سے ہونے والی اموات کی شرح ہے۔
ان کے بقول انسان کو سب سے زیادہ خوف موت کا ہی ہوتا ہے اور پھر ایسی بیماری جس کا علاج ہی موجود نہیں اور اس کے بارے میں معلومات بھی محدود ہیں۔ اسی وجہ سے لوگوں میں ایک سراسیمگی پائی جاتی ہے۔
سہیل چیمہ کے مطابق لاک ڈاؤن نے اس خوف میں اضافہ کر دیا ہے۔
ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث ذہنی امراض کی شدت میں 36 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
ترکی میں لاک ڈاون کا امکان
ترکی ان ممالک میں شامل ہے جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک کا سب سے بڑا شہر استنبول وبا کا مرکز بنا ہوا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا اصرار ہے کہ ترکی کی معیشت کا پہیہ چلتے رہنا چاہیے۔
صدر کے اس اصرار پر بعض کاروباری لوگ بھی پریشان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن ضروری ہے۔
استنبول شہر کے میئر اکرم اماموگولو نے بھی یہ کہتے ہوئے استنبول کو مکمل طور سے بند کرنے کے لیے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر اب بھی بہت زیادہ تعداد میں لوگ موجود ہیں۔