خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن اور امداد کے منتظر خواجہ سرا
پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا میں لاک ڈاؤن کے باعث جہاں دیگر طبقات شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ وہیں خواجہ سرا بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
پشاور میں خواجہ سراؤں کی تنظیم کے سربراہ فرزانہ خان کے مطابق نوبت فاقوں تک آن پہنچی ہے۔ اُن کے بقول بہت سے خواجہ سرا کرایے کی رہائش گاہوں میں رہتے تھے۔ لیکن کوئی ذریعہ معاش نہ ہونے کے باعث اب وہ کرایہ دینے سے بھی قاصر ہیں۔ مالک مکان اُنہیں مکان خالی کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
فرزانہ خان کے مطابق صرف پشاور میں خواجہ سراؤں کی تعداد 4500 سے زیادہ ہے۔ پشاور کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ یہ اپنے خاندان سے الگ تھلگ انفرادی طور پر یا ٹولیوں کی صورت میں مختلف رہائشی علاقوں میں کرایے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ہیں۔
پشاور کے علاقوں ہشت گری، ڈنگری، بھانہ ماڑی، قصہ خوانی، گلبہار، گلبرگ، یونیورسٹی روڈ سمیت مختلف علاقوں میں یہ زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔
کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے دیگر مزدور طبقوں کی طرح یہ کمیونٹی بھی مسائل سے دوچار ہے۔ ان کا ذریعہ معاش شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقعوں سے منسلک ہوتا ہے۔ لیکن لاک ڈاؤن کے باعث نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی ہدایت پر ان خواجہ سراؤں کی مدد بھی کی گئی ہے۔ لیکن بہت سے خواجہ سرا اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔
اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو اور شہزاد ٹاؤن ڈی سیل
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کرونا وائرس کیسز سامنے پر سیل کیے گئے علاقے بھارہ کہو اور شہزاد ٹاؤن کو دوبارہ کھول دیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق بھارہ کہو اور شہزاد ٹاؤن میں ٹیسٹنگ اور نگرانی کے بعد ان علاقوں کو کھول دیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ بلال مسجد، مکی مسجد اور اس سے ملحقہ علاقے بدستور سیل رہیں گے۔ شہزاد ٹاؤن کی گلی نمبر چھ کو بھی لاک ڈاؤن میں رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں امدادی رقوم کی تقسیم کا عمل جاری
پاکستان کی حکومت کی جانب سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مالی مدد کے لیے 12000 روپے فی خاندان امداد کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ملک بھر میں 17000 مقامات پر یہ ادائیگی کی جا رہی ہے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود کئی ملکوں کا پابندیوں میں نرمی پر غور
ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد اور ہلاکتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، کئی ممالک غور کر رہے ہیں کہ اس وبا کی روک تھام کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے۔
چین میں کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد وبا کے مرکز بننے والے شہر ووہان کو بھی مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ ووہان گزشتہ 76 روز سے لاک ڈاؤن میں تھا۔ تاہم اب شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق اٹلی اور اسپین میں کرونا وائرس کی شدت میں کمی آ رہی ہے۔ تاہم ماہرین صحت تنبیہ کر رہے ہیں کہ یہ بحران ابھی خاتمے سے بہت دور ہے۔ لہٰذا اگر ملکوں نے احتیاطی تدابیر میں کمی کی تو وائرس کی دوسری لہر مزید تباہی پھیلا سکتی ہے۔
لیکن اس کے باوجود امریکہ سمیت کئی ممالک پابندیوں میں نرمی کر رہے ہیں یا نرمی پر غور کر رہے ہیں۔