- By جمشید رضوانی
احساس کفالت سینٹر کے باہر بھگدڑ، خاتون ہلاک
ملتان کے علاقے قاسم پور کالونی میں 'احساس کفالت سینٹر' کے باہر امداد کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ گئی۔ بھگدڑ کے نتیجے میں 65 سالہ خاتون دیگر خواتین کے قدموں تلے دب کر ہلاک ہو گئی۔
پینسٹھ سالہ خاتون کی لاش کو ریسکیو 1122 نے نشتر اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق 65 سالہ بزرگ خاتون دھکم پیل میں پھسل کر نیچے گری تو دوسری خواتین اس کے اوپر سے گزر گئیں انہیں نشتر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
کیش پروگرام کے تحت ملتان کے ایک لاکھ بارہ ہزار افراد میں 12 ہزار روپے فی خاندان رقم تقسیم کی جا رہی ہے۔
کمشنر ملتان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والی خاتون کا پوسٹ مارٹم کرایا جا رہا ہے۔ شنید یہ ہے کہ وہ بھگدڑ سے نہیں بلکہ دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوئیں۔
کیش کی تقسیم کا یہ عمل جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں جاری ہے۔
- By سدرہ ڈار
پاکستان میں لاک ڈاؤن کے باعث متاثرہ افراد کی مدد کے لیے راشن کی تقسیم جاری ہے۔ لیکن ایک سماجی تنظیم اقلیتی برادری میں راشن تقسیم کر رہی ہے۔ منتظمین کے مطابق لوگ راشن کی تقسیم میں غیر مسلموں کو نظر انداز کر رہے ہیں تاہم ان کا ہدف یہ کمیونٹی ہے اور اب تک وہ 200 خاندانوں کو ضروری اشیا فراہم کر چکے ہیں۔
کرونا وائرس سے نوزائیدہ بچوں کی حفاظت اب اس طرح کی جائے گی!
تھائی لینڈ کے ایک اسپتال میں نومولود بچوں کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے خصوصی حفاظت کی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر نومولود بچوں کے چہرے پر خصوصی شیلڈ لگائی جا رہی ہے۔
اسپتال کے عملے کی جانب سے بھی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہیں جن میں نوزائیدہ بچوں کے چہروں پر شیشے کی طرح شفاف شیلڈ یا ماسک پہنائے گئے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کمسن افراد اور بزرگوں کو جلدی متاثر کرتا ہے اس لیے اُنہیں اس وائرس سے بچانے کے لیے خصوصی انتظامات لازم ہیں۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق نومولود بچوں کو حفاظتی شیلڈ پہنانے کا مقصد بھی یہی ہے کہ انہیں کرونا وائرس سے محفوظ رکھا جائے
فلائٹ آپریشن کی معطلی میں 21 اپریل تک توسیع
پاکستان میں 25 مارچ سے فضائی آپریشن معطل ہے اور ابتدائی طور پر یہ معطلی 10 اپریل تک تھی۔ تاہم اب سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فلائٹ آپریشن پر عائد پابندی میں 21 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔