'زندگی ختم ہو رہی تھی، دل و دماغ میں صرف بیٹیاں تھیں'
ایک رات سانس اکھڑی تو لگا کہ آخری وقت آ گیا ہے۔ ایک دوست کو ویڈیو کال کی اور اشاروں سے خدا حافظ کہا۔ اسپتال میں آس پاس لوگوں کو کرونا وائرس سے مرتے دیکھتا تو آس ٹوٹ جاتی تھی۔ لندن میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مبشر احمد کی وائس آف امریکہ کے اسد حسن سے گفتگو۔
کرونا وائرس: عام کارکنوں کی الجھنوں میں روز افزوں اضافہ
کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جہاں بہت بڑی تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے وہاں اس وائرس نےکروڑوں لوگوں کے لئے دنیا بھر میں شدید مالی پریشانیوں اور بے یقینی کو بھی جنم دیا ہے۔ اور روز بروز ان کی الجھنوں میں بظاہر اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کیا ترقی یافتہ اور کیا ترقی پزیر ممالک، کسی کو بھی استثنٰی حاصل نہیں. البتہ، یہ بات غریب ملکوں کے لئے خاص طور سے زیادہ پریشان کن ہے کہ لاک ڈاون کی بنا پر ان ملکوں میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے لوگوں کے گھروں میں اب فاقہ کشی تک کی نوبت آ گئی ہے۔
بڑے چھوٹے تمام ملکوں نے اپنے اپنے وسائل کے مطابق مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات تو کئے ہیں، تاہم بیروزگاری کی شرح نے صورتحال کو گھمبیر بنا رکھا ہے۔
امریکہ بھی اس سے مثتثنٰی نہیں، جہاں صرف گزشتہ مہینے تقریباً ایک کروڑ لوگ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کے نظام پر شدید بوجھ پڑا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں کارکنوں نے مراعات کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ بعض یورپی ملکوں، مثلا ًجرمنی اور فرانس نے اس صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف صنعتوں میں کارکنوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں رقوم مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جبکہ امریکہ نے نوکری سے نکالے جانے والے لاکھوں مزدوروں کے لئے سرکاری عانت میں اضافہ کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔
اس کے باوجود ماہرین کہتے ہیں کہ صورتحال میں ابہام موجود ہے۔ سیاٹل کے شہر میں ریسٹورانٹ میں کام کرنے والے ایک شخص رایان فریمین نے بتایا کہ اسے بیروزگاری کا کوئی چیک ابھی تک نہیں ملا۔ اس نظام پر بہت زیادہ بوجھ ہے اور ٹیلی فون پر رابطہ بھی ناممکنات میں سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسی صورتحال سے بہت سے کارکن دوچار ہیں۔
مزید پڑھیے
کرونا وائرس کی آڑ میں غیر جمہوری اقدامات
کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے دنیا بھر میں حکومتوں نے اپنے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہنگامی اقدامات کی آڑ میں کچھ حکومتیں ناجائز طور پر اپنی طاقت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ بیک وقت منفی اور مثبت بھی آ سکتی ہے؟
لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی ٹیسٹ رپورٹس کبھی مثبت اور کبھی منفی آ رہی ہیں۔ محکمۂ صحت پنجاب کے مطابق کرونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی ٹیسٹ رپورٹس مختلف ہو سکتی ہیں۔
حال ہی میں ملتان سے ایک واقعہ سامنے آیا تھا جس میں اٹلی سے آنے والے ایک نوجوان کی نجی لیب سے کرونا وائرس ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آئی تھی۔ لیکن جب اسے محکمہ صحت کی ٹیم نے نشتر اسپتال لا کر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا تو وہ منفی تھا۔ سو اسے اس کے گھر بھیج دیا گیا۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار جمشید رضوانی کے مطابق ملتان کی ضلعی انتظامیہ نے ملتان کے قرنطینہ میں 16 دن گزارنے کے بعد 1158 زائرین کا کرونا وائرس ٹیسٹ کرایا۔ لیکن ان کی حتمی رپورٹس آنے سے قبل ہی زائرین کو ان کے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
پنجاب حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ جب تک ان افراد کی حتمی رپورٹ نہ آئے، اس وقت تک انہیں گھر بھیجنے کے بجائے آئسولیشن یا قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے۔