کرونا وائرس اور ایسٹر: پاکستان میں مسیحی برادری کو دوہری مشکل کا سامنا
عامر گِل مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی ہیں جو اسلام آباد کے ایک گھر میں صفائی ستھرائی کا کام کرتے تھے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا تو کچھ دن بعد ہی عامر گِل کو بغیر کوئی نوٹس دیے نوکری سے نکال دیا گیا۔
عامر کے علاوہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد ایسے ہیں جو روز کما کر کھاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر افراد کا روزگار ختم ہو چکا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث مسیحی برادری کو کافی مشکلات ہیں۔ ایک طرف ان کا روزگار ختم ہو رہا ہے تو دوسری جانب انہیں ایسٹر کے تہوار کی فکر ستا رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے امداد کا انتظار کرتے عامر گِل نے اپنی کہانی سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں تک تو عام حالات میں بھی کوئی نہیں پہنچتا اور اب کرونا وائرس کے باعث تو امداد کی فراہمی ویسے ہی مشکل ہے۔
عامر اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ اسلام آباد کے ایک "بڑے سے گھر" میں صفائی کا کام کرتے تھے۔ ان کا زیادہ تر کام مختلف تقریبات کے بعد پورے گھر کو صاف کرنا ہوتا ہے۔
خبردار! انٹرنیٹ پر آپ کی نگرانی کی جا رہی ہے
کئی دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے صارفین کے انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں آن لائن پرائیوسی کا کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ فریڈم ایکٹوسٹس اور سوشل میڈیا ماہرین کو اس ڈیٹا کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔ نخبت ملک کی رپورٹ
امریکیوں کا وائرس کے حوالے سے چین کے خلاف مقدمہ دائر
ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے دوران، پانچ ہزار سے زیادہ امریکی چین کی حکومت کے خلاف کرونا وائرس سے پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے فلوریڈا کی ایک عدالت میں دائر دعوے میں شامل ہوگئے ہیں۔
مدعا علیہان کا کہنا ہے کہ کررونا وائرس کو قابو میں رکھنے میں چین کی لاپرواہی سے انہیں بڑے نقصان کا سامنا ہے۔ اسی قسم کے دعوے ریاست نیواڈا اور ٹیکساس میں بھی دائر کئے گئے ہیں۔
ریاست فلوریڈا میں دعویٰ دائر کرنے والے برمین لا گروپ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دعویٰ ان افراد سے متعلق ہے جنہیں کرونا وائرس سے بیمار ہونے کی وجہ سےجسمانی نقصان پہنچا ہے یا چین کی wet markets ویٹ مارکیٹس کی سرگرمیوں کی وجہ سے، یعنی ایسے بازار جہاں کھلے میں گوشت، مچھلیاں اور سبزیاں فروخت ہوتی ہیں، نقصان پہنچا ہے۔
اس لا فرم نےچین کے خلاف 'فارن سوورینٹی ایمیونٹییز ایکٹ' کے تحت پرسنل اِینجری اور اقتصادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کو بنیاد بناتے ہوئے قانونی نکات اٹھائے ہیں۔ تاہم، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ہیسٹنگز لا کالج کے پروفیسر شی مینے کیٹنر اِن قانونی نکات سے متفق نہیں ہیں۔
پروفیسر کیٹنر کہتی ہیں کہ اگر آپ ان تمام مقدمات کا مطالعہ کریں جو اِس ایکٹ کے تحت دائر کئے گئے اور اُن پر فیصلہ آئے تو اس سے آپ پر پوری طرح سے واضح ہو جائے گا کہ پرسنل انجری یا جسمانی نقصان کیلئے کسی چینی عہدیدار کا امریکی علاقے میں موجود ہونا ضروری ہے، اور اس کا براہ راست تعلق اقتصادی سرگرمیوں سے بھی نہیں ہے۔
مزید پڑھیے
موبائل فون آپ کو کرونا وائرس سے بچائے گا؟
ایپل اور گوگل ںے ایسے منصوبے پر کام کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کو علم ہو سکے گا کہ ان کے آس پاس کوئی کرونا وائرس میں مبتلا شخص تو نہیں۔
یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایپل اور گوگل مل کر کام کریں گی۔ صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروبار زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے ایسی ٹیکنالوجی انتہائی ضروری ہے۔
ایپل اور گوگل ایسی ایپ کے لیے بلوٹوتھ کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو عام طور پر دو موبائل فونز میں رابطے کا ایک طریقہ ہے۔ لیکن نئے منصوبے میں انھیں کرونا وائرس کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ ایپل اور گوگل خود کوئی ایپ نہیں بنائیں گے۔ لیکن، صحت عامہ کے ماہرین کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کریں گے جس سے وہ خود اپنی ایپ بناسکیں گے۔
کرونا وائرس میں مبتلا افراد اپنے فون کو رضاکارانہ طور پر اپنی بیماری کے بارے میں بتائیں گے۔ ایپ کسی شخص کی شناخت اور لوکیشن ظاہر نہیں کرے گی اور نہ ہی حکومت یا کسی ادارے کو فراہم کرے گی۔ اس کا مقصد صرف اردگرد موجود لوگوں کو محتاط کرنا ہوگا جس کے لیے ان کے فون پر اطلاع دی جائے گی۔
ایپل اور گوگل مئی کے وسط تک سافٹ وئیر ڈویلپرز کو یہ ٹیکنالوجی فراہم کردیں گے۔ بعد میں ایپل اور گوگل آئی فون اور اینڈرائیڈ کے لیے آپریٹنگ سسٹمز کو بھی اپ ڈیٹ کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایپ ہر چند منٹ بعد کرونا وائرس میں مبتلا شخص کے قریب موجود لوگوں کے فون پر سگنل بھیجے گی تاکہ وہ خبردار ہوجائیں۔