ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تاریخ میں توسیع، اظہر علی بھی مصباح کے حامی
پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے مصباح الحق کی جانب سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تاریخوں میں توسیع کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز میں کہا گیا تھا کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ شروع ہونے سے پہلے ہی کرونا وائرس سے بری طرح سے متاثر ہوئی ہے لہذا اس کے انعقاد کو تاریخوں میں توسیع کر دی جائے۔
اظہر علی کا خیال ہے کہ مستقبل میں کریکٹنگ ایکشن کو واپس لانا ہوگا۔ اگرچہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ بغیر تماشائیوں کے بند دروازوں میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے لیکن ایسے میں کھلاڑیوں کی صحت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا۔ ان کی صحت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
کرونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیر اعظم اسپتال سے ڈسچارج
کرونا وائرس میں مبتلا برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وزیر اعظم بورس جانسن کرونا وائرس سے مکمل صحت یاب ہونے تک اپنی سرکاری رہائش گاہ پر قیام کریں گے۔ جس کی تصدیق سرکاری اعلامیے میں بھی کی گئی ہے۔
خیال رہےکہ برطانیہ کے 55 سالہ وزیر اعظم کو پانچ اپریل کو اس وقت اسپتال منتقل کیا گیا تھا جب ان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
بورس جانسن کو چھ اپریل کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ نو اپریل تک رہے۔
سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ طبی ماہرین کی ہدایت کے مطابق وزیر اعظم فوری طور پر سرکاری امور انجام نہیں دیں گے۔
طبی معائنہ کرنے کے لیے آنے والی ڈاکٹرز کی ٹیم یرغمال
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع بڈگام میں دہلی سے واپس آنے والی بیماری میں مبتلا ایک خاتون کا معائنہ کرنے ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے گھر پہنچی تاہم انہیں مبینہ طور پر یرغمال بنا لیا گیا۔
پولیس اہلکار جب ان ڈاکٹروں کو بازیاب کرانے گئے تو ان پر پتھراؤ کیا گیا جس سے تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
خاتون کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے گھر کی کھڑکیوں کو توڑا اور ان سے بدتمیزی کی۔
ادھر اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ خاتون نے بیرون ملک سفر کی اطلاع سے پولیس کو لاعلم رکھا۔ جس پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے اور کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
- By سہیل انجم
لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے روکنے پر پولیس افسر کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
بھارت کی ریاست پنجاب میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے روکنے پر نامعلوم افراد نے پولیس پر حملہ کرکے ایک افسر کا ہاتھ قلم کر دیا۔ واقعے میں دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔
پولیس کے مطابق ضلع پٹیالہ میں اتوار کی صبح سبزی منڈی میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہرجیت سنگھ پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
پنجاب پولیس کے سربراہ دنکر گپتا نے میڈیا کو بتایا کہ صبح چھ بجے ایک گاڑی کو سبزی منڈی آنے سے روکا جب کہ اس میں سوار افراد سے کرفیو پاس مانگا گیا جس کے جواب میں ان لوگوں نے پولیس پر حملہ کردیا۔
ان کے مطابق حملہ کرنے والے افراد سکھ تھے جن کے پاس روایتی اسلحہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور بھاگ کر ایک گردوارے میں جا چھپے جس پر پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی۔ پولیس نے انہیں خود کو حکام کے حوالے کرنے کا کہا تاہم وہ فوری طور پر تیار نہیں ہوئے۔
سنکر گپتا نے بتایا کہ اس پر پولیس اور ثالثی کرنے والے افراد کے درمیان کئی گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔ مذاکرات کی کامیابی کے نتیجے میں حملہ آوروں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان سے چاقو اور تلواریں لے کر اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔