رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:22 13.4.2020

'لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبے اور وفاق مشاورت سے فیصلہ کریں گے'

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر وائرس پھیلنے کی شرح 52 فی صد ہو چکی ہے۔ وبا کے شکار افراد کو قرنطینہ میں رکھ کر اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں یومیہ ٹیسٹ کرنے کی استعداد 3000 ہو چکی ہے رواں ماہ کے آخر تک یہ تعداد 25ہزار یومیہ سے زائد ہو جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں چھ لاکھ ٹیسٹ کرنے کی استعداد موجود ہے۔ اپریل میں ہی یہ 10 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبے اور وفاقی حکومت مشاورت سے فیصلہ کریں گے جس کے حوالے سے کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس منگل کو ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ہٹنے کی صورت میں کاروبار کرنے والوں پر بڑی ذمہ داری ہو گی کہ مزدوروں کی صحت کا خیال رکھیں اور ان مزدوروں کے لیے حفاظتی انتظامات کریں۔

انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور وفاقی وزارتوں میں کام کرنے والوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

18:17 13.4.2020

عمران خان نے ٹیلی اسکول چینل کا افتتاح کر دیا

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیلی اسکول چینل سے دور دراز کے علاقے بھی مستفید ہوں گے۔

پاکستان کے پہلے ٹیلی اسکول چینل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کرونا وائرس کا معاملہ کتنے عرصے چلے گا۔ والدین بچوں کی تعلیم کے یے پریشان ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ موبائل فون کی وجہ سے اب بڑے لوگ بھی تعلیم کا حصول چاہتے ہیں کیوں کہ موبائل چلانے کے لیے پڑھنا لکھنا آنا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بچے اسکول سے باہر ہیں۔

اس موقع پر اجلاس میں موجود وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دو کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ جب کہ ملک کی شرح تعلیم 60 فی صد ہے تاہم یہ بھی اس لیے ہے کیوں کہ ملک میں نام لکھنے والے کو بھی خواندہ کہا جاتا ہے۔

17:36 13.4.2020

کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمارداری کے لیے روبوٹ ایجاد

ملائیشیا کے سائنس دانوں نے 'میڈی بوٹ' نامی ایک ایسا روبوٹ ایجاد کیا ہے جو اسپتالوں کے وارڈ میں زیرِ علاج کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کرے گا۔

روبوٹ کی مدد سے ڈاکٹرز سمیت اسپتال کے تمام عملے کو انفیکشن کے خطرے سے دور رہنے میں بھی مدد ملے گی۔

'میڈی بوٹ' بیرل یا ایک بڑے ڈرم کی شکل سے مشابہہ ہے جس کی لمبائی ڈیڑھ میٹر اور رنگ سفید ہے۔ اس میں کیمرا اور اسکرین نصب ہے۔

میڈی بوٹ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے جس کا مقصد کرونا وائرس کے باعث اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور عملے کے کام میں کمی لانا ہے۔

مزید جانیے

17:34 13.4.2020

امریکہ: 'معمول کی زندگی کے لیے عجلت سے وائرس پھیلنے کا شدید خطرہ'

امریکہ میں متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اگر کاروبار اور معمول کی زندگی شروع کرنے کے لیے عجلت کی گئی تو کرونا وائرس کے مزید پھیلنے کا شدید خطرہ ہو گا۔

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکہ میں معمول کی زندگی یکم مئی سے بحال کرنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

انتھونی فاؤچی نے نشریاتی ادارے 'سی این این' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں کاروبار دوبارہ شروع کرنے کی خاطر سماجی فاصلے کی پابندی 30 اپریل سے ختم کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید تھی کہ آئندہ ماہ کسی وقت ملک میں کاروباری سرگرمیاں کسی قدر بحال کی جا سکیں گی تاہم اس کی صورت حال ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف ہو گی۔

انتھونی فاؤچی کے مطابق کاروباری سرگرمیاں کھولنے کا انحصار کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد پر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی تدابیر کے باوجود مزید لوگ اس وائرس میں مبتلا ہوں گے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے اب تک 22ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں جب کہ 56 ہزار مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

تخمینوں کے مطابق امریکہ میں جولائی تک ہلاکتوں کی تعداد 60ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG